رحمان گارڈن میں ذہنی معذوری کے شکار شخص کی گرفتاری کا معاملہ، کورٹ بیلف کے ذریعے پولیس حراست سے برآمدگی، جائیداد کی سرپرستی کا تنازع سامنے آگیا
تھانہ کوٹ عبدالمالک پولیس کی جانب سے رحمان گارڈن میں رات گئے مبینہ کارروائی کے دوران ذہنی معذوری کے شکار محمد عامر کو حراست میں لینے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ پولیس اہلکار محمد عامر کو دھکے اور تھپڑ مارتے ہوئے گھر سے لے گئے، جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی منظرعام پر آنے کی اطلاعات ہیں۔
الزامات کے مطابق محمد عامر کو حراست میں لیے جانے کے 24 گھنٹے گزرنے کے باوجود نہ تو مقدمہ درج کیا گیا اور نہ ہی گرفتاری روزنامچہ میں درج کی گئی۔ بعدازاں مجسٹریٹ فیروزوالہ کے حکم پر کورٹ بیلف کے ذریعے محمد عامر کو پولیس حراست سے برآمد کر لیا گیا۔
اطلاعات کے مطابق پولیس نے مبینہ طور پر وکلا اور کورٹ بیلف کے حوالے محمد عامر کو کرنے سے انکار کیا، جبکہ اس معاملے میں ایڈیشنل سیشن جج کا حکم بھی موجود ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
معاملے کا ایک اہم پہلو محمد عامر کی سرپرستی کا تنازع بھی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ والد کے انتقال کے بعد کروڑوں روپے مالیت کی جائیداد کے مالک محمد عامر کی سرپرستی کا معاملہ متنازع ہوگیا ہے، جبکہ والد کی زندگی میں ان کی سرپرستی محمد صغیر کے سپرد کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
واقعے نے پولیس کارروائی، عدالتی احکامات پر عمل درآمد اور ذہنی معذوری کے شکار شخص کے قانونی حقوق سے متعلق اہم سوالات اٹھا دیے ہیں۔ تاہم پولیس کا باضابطہ مؤقف، کارروائی کی وجوہات اور جائیداد و سرپرستی کے تنازع کی مکمل تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں۔
اہم سوال: کیا یہ معاملہ محض پولیس کارروائی کا ہے یا کروڑوں روپے کی جائیداد کی سرپرستی کے تنازع سے بھی جڑا ہوا ہے؟ اس بارے میں حتمی نتیجے پر پہنچنے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کا مؤقف اور عدالتی ریکارڈ سامنے آنا ضروری ہے۔