گھرارا، ساڑھی اور مغربی فیشن؛ 1950ء اور 1960ء کے لاہور کی خواتین کا بدلتا اندازِ لباس سامنے آگیا

ماضی کے لاہور کی خواتین کا لباس، تصاویر میں 1950ء اور 1960ء کی دہائی کی جھلکیاں

لاہور کی پرانی تصاویر نے خواتین کے بدلتے لباس، معاشرتی رجحانات اور شہری اشرافیہ کے طرزِ زندگی کی ایک تاریخی جھلک دوبارہ سامنے لائی ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر اور ان سے متعلق تحریروں میں خاص طور پر 1950ء اور 1960ء کی دہائی کے لاہور کا ذکر کیا گیا ہے، جب خواتین کے لباس میں روایتی جنوبی ایشیائی ملبوسات کے ساتھ مغربی فیشن کے اثرات بھی نمایاں دکھائی دیتے تھے۔

1950ء کی دہائی میں گھرارا، ساڑھی اور دیگر روایتی ملبوسات مقبول

پنجاب یونیورسٹی میں شائع ہونے والے ایک تحقیقی مقالے کے مطابق پاکستان کے ابتدائی برسوں میں خواتین کے لباس میں گھرارا، ساڑھی، شرارا، ڈھاکہ پاجامہ، علی گڑھ پاجامہ اور کُرتا سمیت مختلف انداز رائج تھے۔ مقالے میں بتایا گیا ہے کہ 1950ء کی دہائی میں گھرارا اور ساڑھی خاص طور پر نمایاں تھے۔

تاریخی طور پر گھرارا برصغیر کے مسلم معاشروں، خصوصاً اودھ اور لکھنؤ کے لباس سے جڑا ہوا تھا اور قیام پاکستان کے بعد بھی خواتین کے ملبوسات میں اس کی اہمیت برقرار رہی۔ 1950ء کی ایک Pakistan Quarterly تصویر کے ریکارڈ میں بھی گھرارے کو اس دور کے لباس کے طور پر دستاویزی شکل میں محفوظ کیا گیا ہے۔

فاطمہ جناح اور رعنا لیاقت علی خان کے لباس کا بھی اثر

تحقیقی مواد کے مطابق ابتدائی پاکستان میں خواتین کے لباس پر نمایاں خواتین شخصیات کے انداز کا بھی اثر تھا۔ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان کی تصاویر میں گھرارا اور دیگر روایتی ملبوسات نمایاں رہے۔ ایک تحقیقی مطالعے کے مطابق بیگم رعنا لیاقت علی خان نے 1950ء میں امریکا کے سرکاری دورے کے دوران گھرارا زیب تن کیا تھا۔

اس دور کے لباس کو صرف فیشن کے طور پر نہیں دیکھا جاتا بلکہ بعض محققین نے اسے نئی ریاست کی ثقافتی شناخت کی تشکیل سے بھی جوڑا ہے۔

1960ء کی دہائی میں مغربی فیشن کی آمیزش

1960ء کی دہائی میں شہری پاکستان، بالخصوص بڑے شہروں میں، لباس کے رجحانات میں مزید تبدیلی آئی۔ دستیاب تاریخی جائزوں کے مطابق اس عرصے میں ساڑھی، میکسی، گاؤن اور دیگر مغربی طرز کے ملبوسات شہری اور خوشحال طبقوں میں نظر آنے لگے۔

تاہم یہ تبدیلی پورے معاشرے میں یکساں نہیں تھی۔ مختلف علاقوں، طبقات اور برادریوں میں لباس کے اپنے الگ رجحانات برقرار رہے۔ اسی لیے پرانی تصاویر کو پورے پاکستان کی خواتین کے عمومی لباس کی مکمل نمائندگی سمجھنا درست نہیں ہوگا۔

لاہور کی تصاویر دراصل ایک مخصوص شہری طبقے کی عکاسی کرتی ہیں

سوشل میڈیا پر زیرِ بحث تصاویر کے حوالے سے ایک اہم نکتہ یہ بھی سامنے آتا ہے کہ ان میں زیادہ تر شہری اور نسبتاً خوشحال طبقے کی خواتین نظر آتی ہیں۔ اس لیے ان تصاویر سے اس زمانے کی تمام پاکستانی خواتین کے لباس یا معاشرتی زندگی کے بارے میں عمومی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا۔

اس کے باوجود یہ تصاویر اس بات کا اہم بصری ریکارڈ ہیں کہ لاہور جیسے بڑے شہر میں لباس کس طرح مقامی روایت، برصغیر کی تہذیبی میراث اور عالمی فیشن کے درمیان بدل رہا تھا۔

1977ء کے بعد ریاستی اسلامائزیشن کا نیا دور

پاکستان کے معاشرتی اور سیاسی منظرنامے میں 1977ء کے بعد ایک اہم تبدیلی آئی، جب جنرل ضیاء الحق کی حکومت نے اسلامائزیشن کی پالیسیوں کو آگے بڑھایا۔ آکسفورڈ اکیڈمک کے مطابق 1977ء سے 1997ء کے دوران ریاستی سطح پر اسلامائزیشن نے پاکستان کے قانونی، سیاسی اور سماجی ڈھانچے کو متاثر کیا۔

خواتین کے حقوق اور معاشرتی کردار سے متعلق مباحث بھی اس دور میں زیادہ نمایاں ہوئے۔ ایک تحقیقی مطالعے کے مطابق 1977ء سے 1988ء کے دوران اسلامائزیشن کی پالیسیوں کے نتیجے میں خواتین کے حقوق، قانون اور عوامی زندگی میں خواتین کی شرکت سے متعلق بحث شدت اختیار کر گئی۔

ایران کا انقلاب اور افغان جنگ بھی اہم علاقائی عوامل بنے

1979ء میں ایران میں اسلامی انقلاب اور اسی سال افغانستان میں سوویت فوجی مداخلت نے بھی پاکستان کے سیاسی و سماجی ماحول پر اثر ڈالا۔ مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایک مطالعاتی جائزے میں ضیاء الحق کی اسلامائزیشن، ایرانی انقلاب اور افغانستان میں جنگ کو 1970ء کی دہائی کے آخر اور 1980ء کی دہائی میں پاکستان میں آنے والی بڑی تبدیلیوں کے باہم جڑے ہوئے عوامل کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

تاہم مؤرخین اور محققین ان عوامل کے باہمی اثرات اور ان کے نتائج کی مختلف تشریحات پیش کرتے ہیں، اس لیے صرف لباس کی تبدیلی کو کسی ایک سیاسی یا مذہبی واقعے کا براہِ راست نتیجہ قرار دینا محتاط تاریخی تجزیے کے بغیر درست نہیں ہوگا۔

ماضی کے لاہور کی تصاویر نے ایک پرانی بحث پھر زندہ کردی

1950ء اور 1960ء کی دہائی کی یہ تصاویر آج کے ناظرین کو لاہور کے ایک ایسے شہری ماحول کی جھلک دکھاتی ہیں جہاں گھرارا، ساڑھی، شلوار قمیض اور مغربی طرز کے ملبوسات ایک ہی معاشرتی منظرنامے میں دکھائی دے سکتے تھے۔ بعد کی دہائیوں میں ریاستی پالیسیوں، علاقائی سیاسی واقعات، مذہبی مباحث، عالمی اثرات اور مقامی معاشرتی تبدیلیوں نے لباس سمیت پاکستانی معاشرے کی کئی جہتوں کو متاثر کیا۔

یوں پرانی تصاویر محض فیشن کی یادگار نہیں بلکہ پاکستان کے شہری معاشرے، طبقاتی فرق، ثقافتی شناخت اور وقت کے ساتھ بدلتے سماجی رجحانات کو سمجھنے کے لیے ایک اہم بصری ذریعہ بھی ہیں۔ تاہم ان تصاویر کو ان کے مخصوص شہری اور طبقاتی پس منظر کے ساتھ دیکھنا زیادہ درست تاریخی تناظر فراہم کرتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں