چینی صدر شی جن پھنگ سرکاری دورے پر واشنگٹن جا رہے ہیں جہاں ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ہوگی۔ یہ دورہ چین-امریکہ تعلقات کو استحکام کی جانب گامزن کرنے کی کوشش ہے۔
بیجنگ (شِنہوا) چین کے صدر شی جن پھنگ سرکاری دورے پر واشنگٹن روانہ ہونے والے ہیں، جہاں ان کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ انتہائی اہم ملاقات ہوگی۔
اس دورے کے ساتھ دونوں صدور چند ماہ کے اندر ایک دوسرے کے ممالک کے دورے مکمل کر لیں گے۔ یہ 2015 کے بعد شی کا امریکہ کا دوسرا سرکاری دورہ ہوگا۔
ایک دہائی سے زائد عرصے کے بعد دنیا کے سب سے اہم دوطرفہ تعلقات ایک نشیب و فراز سے بھرپور سفر سے گزرے ہیں۔ بیجنگ اور واشنگٹن اپنے تعلقات کو کس طرح سنبھالتے ہیں اور باہمی تعاون کے لئے کس قدر گنجائش پیدا کرتے ہیں، یہ دونوں ممالک اور پوری دنیا کے لئے روز بروز زیادہ اہم ہوتا جا رہا ہے۔
مئی میں جب شی نے بیجنگ میں ٹرمپ کی میزبانی کی تو انہوں نے مذاکرات کا آغاز 3 سوالات سے کیا: کیا چین اور امریکہ تھیوسیڈائیڈز ٹریپ سے نکل کر بڑی طاقتوں کے تعلقات کا ایک نیا نمونہ تشکیل دے سکتے ہیں؟ کیا ہم عالمی چیلنجز کا مل کر مقابلہ کر سکتے ہیں اور دنیا کے لئے مزید استحکام فراہم کر سکتے ہیں؟ کیا ہم دونوں عوام کی فلاح و بہبود اور انسانیت کے مستقبل کے مفاد میں اپنے دوطرفہ تعلقات کے لئے مل کر ایک روشن مستقبل تشکیل دے سکتے ہیں؟”
یہ سوالات چین اور امریکہ کے دوطرفہ تعلقات میں کئی برس سے جاری کشیدگی کے پس منظر میں اٹھائے گئے، جس میں تجارتی تنازعات سے لے کر ٹیکنالوجی پر عائد پابندیوں تک کے معاملات شامل ہیں۔ صدر شی نے بارہا اس امر پر زور دیا ہے کہ دنیا کے دو بڑے ممالک کے درمیان تعلقات استوار کرنے کا درست راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
بیجنگ سربراہ اجلاس نے اس کوشش کو نئی رفتار فراہم کی۔ شی اور ٹرمپ نے آئندہ 3 برسوں اور اس کے بعد بھی تزویراتی استحکام پر مبنی چین-امریکہ تعمیری تعلقات کے قیام کے لئے ایک نئے وژن پر اتفاق کیا ہے۔
سنگہوا یونیورسٹی کے مرکز برائے بین الاقوامی سلامتی و حکمت عملی کے ڈائریکٹر دا وی نے کہا کہ “یہ ایک دہائی سے زائد عرصے میں پہلی بار ہے کہ چین اور امریکہ نے تعلقات کی نوعیت متعین کرنے کے طریقہ کار پر اتفاق رائے قائم کیا ہے، جسے دونوں جانب کے رہنما وسیع پیمانے پر تسلیم کرتے ہیں۔”
کچھ عرصے سے چین-امریکہ تعلقات دونوں رہنماؤں کی جانب سے متعین کردہ راستے پر آگے بڑھ رہے ہیں۔ چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے آئندہ سربراہ اجلاس کی تیاری کے سلسلے میں جمعرات کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران کہا کہ “سربراہان مملکت کی سفارت کاری چین۔امریکہ تعلقات کا محور ہے۔”
ٹرمپ کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد سے شی نے مختلف ذرائع، مثلاً بالمشافہ ملاقاتوں اور ٹیلی فون پر گفتگو کے ذریعے ان سے رابطہ برقرار رکھا ہے اور بعض مواقع پر یہ رابطے غیر رسمی انداز میں بھی ہوئے ہیں۔
مئی کے دورے میں شی نے ٹرمپ کو بیجنگ کے وسط میں واقع چینی قیادت کے کمپاؤنڈ ژونگ نان ہائی میں نجی ملاقات کی دعوت دی، جو بہت کم غیرملکی رہنماؤں کو دی جانے والی دعوت ہے۔
شی اور ٹرمپ باغ میں ٹہلتے ہوئے گفتگو کرتے رہے اور وقتاً فوقتاً رک کر بلند قامت قدیم درختوں اور پوری طرح کھلے ہوئے چینی گلابوں سے لطف اندوز ہوتے رہے۔
شی نے بعد ازاں چائے پر دونوں رہنماؤں کی گفتگوکے دوران کہا کہ” صدر ٹرمپ امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کے خواہاں ہیں، میں چینی عوام کو قومی شباب نو کی جانب گامزن کرنے کے لئے پرعزم ہوں۔”
انہوں نے دونوں فریقوں پر زور دیا کہ وہ درست سمت پر قائم رہیں، خلل ڈالنے والے عوامل سے گریز کریں اور دوطرفہ تعلقات کی مستحکم ترقی کو فروغ دیں۔
رسمی ملاقات کی میز سے ہٹ کر ایسے لمحات ٹرمپ کے ساتھ شی کی ملاقاتوں کی ایک نمایاں خصوصیت بن چکے ہیں، جو دونوں رہنماؤں کو ایک دوسرے کے ممالک اور نقطہ نظر کو زیادہ ذاتی اور غیر رسمی ماحول میں سمجھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔
اسی طرح کے روابط 2017 میں ٹرمپ کے ساتھ شی کی پہلی ملاقات تک جاتے ہیں۔ فلوریڈا میں ٹرمپ کی نجی رہائش گاہ مار-اے- لاگو میں شی نے انہیں چینی خطاطی کا ایک نمونہ پیش کیا، جس پر ایک قدیم کہاوت درج تھی کہ “9 منزلہ مینار مٹی کے ڈھیر سے بلند ہوتا ہے؛ ہزار میل کا سفر ایک قدم سے شروع ہوتا ہے۔”
اس پیغام میں اس تعلق کے لئے ایک استعارہ پوشیدہ تھا جسے شی دونوں ممالک کے درمیان قائم کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے ٹرمپ سے کہا کہ دونوں رہنما چین-امریکہ تعلقات کو آگے بڑھانے کے لئے دونوں ممالک میں موجود خیرسگالی اور جوش و جذبہ رکھنے والے لوگوں کو متحد کر سکتے ہیں اور اس تعلق کی عمارت کو ایک ایک منزل کرکے تعمیر کر سکتے ہیں، اسے مزید مضبوط، بلند اور شاندار بنا سکتے ہیں۔

