میاں محمد اظہر اور امتیاز احمد شیخ۔ ۔ ۔ ۔ محمد بخش لہرانی
جب پرویز مشرف کے Take over کے تین سال بعد سپریم کورٹ کی دی ہوئی مدت میں الیکشن کروا رہا تھا تو یہ فیصلہ ہو چکا تھا کہ وزیر اعظم میاں اظہر اور سندھ کا چیف منسٹر امتیاز احمد شیخ بنیں گے۔ لیکن کہتے ہیں Man propose God DisPropose یعنی انسان کچھ سوچتا ہے اور اللہ کچھ اور کر دیتا ہے۔
میاں اظہر اس لیے وزیر اعظم کے لیے نامزد ہوا کیونکہ اس نے مشرف کے پلان کو مضبوط کرنے کے لیے مسلم لیگ نواز سے الگ ہو کر مسلم لیگ قاف کی بنیاد رکھی۔ اس کے ساتھ ساتھ نواز لیگ کے پنجاب، سندھ، کے پی اور بلوچستان کے اہم رہنماؤں کو شامل کرانے میں کامیاب ہو گیا، جن میں گجرات کے چوہدری برادران بھی شامل تھے۔ مگر انہی چوہدری برادران نے قاف لیگ میں آ کر میاں اظہر کے ہی پاؤں کھینچ لیے۔
میاں اظہر جو مسلم لیگ قاف کا بانی صدر تھا، اس نے سب سے بڑی غلطی یہ کی کہ جب اسے یقین تھا کہ مشرف کسی بھی طرح کنگ پارٹی کو جتوائے گا اور قاف لیگ کی جیت کے ساتھ وزیر اعظم کا امیدوار میاں اظہر ہوگا، تو وہ لاپرواہی کر کے صرف لاہور کے ایک حلقے سے الیکشن لڑ رہا تھا۔ عام طور پر جب کوئی وزیر اعظم کا امیدوار ہوتا ہے تو وہ تین سے چار حلقوں سے الیکشن لڑتا ہے تاکہ اگر ایک یا دو حلقے سے ہار بھی جائے تو کوئی نہ کوئی سیٹ نکل آئے۔ صرف اس ایک غلطی کی وجہ سے میاں اظہر نے اپنا سیاسی کیرئیر ختم کر لیا۔ لاہور کے قومی حلقے NA-118 سے آزاد امیدوار سلمان بٹ سے شکست کھا گیا، جس نے 25483 ووٹ لے کر ملک کے آنے والے وزیر اعظم کو شکست دے دی، جبکہ میاں اظہر 21641 ووٹ لے کر ہار گیا۔
دوسری طرف سندھ میں پیپلز پارٹی کے خلاف سندھ ڈیموکریٹس الائنس SDA بنانے والے امتیاز احمد شیخ کے ساتھ بھی یہی حشر ہوا۔ وہ بھی سندھ کا وزیر اعلیٰ کا امیدوار تھا اور پیپلز پارٹی کے آغا طارق دھرانی سے شکارپور کے صوبائی حلقے PS-11 سے شکست کھا گیا۔ آغا طارق دھرانی نے 17575 ووٹ لے کر امتیاز احمد شیخ کو شکست دی، جو 15900 ووٹ لے کر ہار گیا۔
2002 کے الیکشن میں Hung Parliament وجود میں آیا۔ مشرف کی بڑی کوششوں کے باوجود کنگ پارٹی قاف لیگ سادہ اکثریت بھی حاصل نہ کر سکی۔ قاف لیگ نے تقریباً 91 اور پیپلز پارٹی نے 81 سیٹیں حاصل کیں۔ مشرف کے پاس دو راستے بچے: یا تو نئے سرے سے الیکشن کروائے، جو ممکن نہیں تھا اور کرا کر بھی معلوم نہیں تھا کہ نتائج کیا آئیں گے۔ اس لیے جنرل مشرف نے مخدوم امین فہیم کا ساتھ لیا کہ وہ اس بحران سے نکالیں اور اس بحران کا حل صرف پیپلز پارٹی کے پاس تھا۔
پرویز مشرف نے مخدوم امین فہیم کو وزیر اعظم، چوہدری شجاعت کو ڈپٹی وزیر اعظم، وفاقی کابینہ میں آدھے وزیر پیپلز پارٹی اور آدھے قاف لیگ کے رکھنے کا فیصلہ کیا اور مخدوم صاحب کے فرزند کو سندھ کی وزارتِ اعلیٰ دینے کی آفر کی، کیونکہ سندھ میں پیپلز پارٹی حکومت بنانے کی پوزیشن میں تھی اور اس میں آصف علی زرداری کی رہائی بھی شامل تھی۔ جب مخدوم صاحب یہ آفر لے کر بینظیر بھٹو کے پاس دبئی گئے تو بینظیر بھٹو نے ان تمام آفرز کو ماننے سے انکار کر دیا۔
بینظیر بھٹو کے انکار کی وجہ سے پارٹی کو نقصان ہوا۔ جنرل پرویز مشرف نے پیپلز پارٹی کو توڑ کر 13 MNAs کی حمایت حاصل کر کے قاف لیگ کو سادہ اکثریت دلا دی۔ بینظیر بھٹو کے اس فیصلے پر پیپلز پارٹی کے اہم رہنما ناراض ہو کر اپنا الگ گروپ “پیٹریاٹ” بنا گئے، جس میں مخدوم سید فیصل صالح حیات، راؤ سکندر، سردار خالد لوند سمیت 14 MNA اور سندھ کے کئی MPA منحرف ہو گئے۔
اس طرح میاں اظہر مخدوم امین فہیم وزیر اعظم نہ بن سکے اور مخدوم جمیل الزمان امتیاز شیخ سندھ کے چیف منسٹر نہ بن سکے۔