
اٹک: حافظِ قرآن کے قتل کو تین سال سے زائد گزر گئے، لواحقین تاحال انصاف کے منتظر، پولیس قاتلوں کا سراغ نہ لگا سکی
اٹک کی تحصیل جنڈ کے علاقے مانجہ غنڈی میں گھر کے باہر قتل ہونے والے حافظ قاری محمد اسحاق کے لواحقین نے تین سال تین ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود ملزمان کی گرفتاری نہ ہونے پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام سے مقدمے کی ازسرنو تفتیش اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
مقتول کی ضعیف العمر والدہ ریشم جان اور بھائی محمد جاوید، جو پاک فوج کے سابق ملازم اور مقدمے کے مدعی ہیں، نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ان کے بھائی حافظ قاری محمد اسحاق کو 7 جولائی 2023 کو گھر کے باہر فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا، جس کا مقدمہ تھانہ انجرا میں درج کیا گیا، تاہم طویل عرصہ گزرنے کے باوجود پولیس ملزمان کا سراغ لگانے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔
محمد جاوید کے مطابق وہ اپنی بوڑھی والدہ کے ہمراہ انصاف کے حصول کے لیے متعدد مرتبہ تھانہ انجرا، ڈی ایس پی جنڈ، ڈی پی او اٹک اور دیگر اعلیٰ پولیس حکام کے دفاتر کے چکر لگا چکے ہیں، لیکن تاحال نہ تو انہیں انصاف ملا اور نہ ہی پولیس کی جانب سے ان کے ساتھ مؤثر رابطہ کیا گیا۔
لواحقین نے دورانِ پریس کانفرنس بعض افراد کے نام لیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہیں قتل کے واقعے سے متعلق اہم معلومات حاصل ہیں اور متعلقہ افراد کو بھی اس بارے میں آگاہی ہے۔ انہوں نے پولیس حکام سے مطالبہ کیا کہ ان کے فراہم کردہ نکات اور شواہد کا جائزہ لے کر قتل کی تفتیش نئے سرے سے کی جائے اور اصل ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی۔
مقتول کے اہل خانہ کا کہنا تھا کہ حافظ قاری محمد اسحاق چار بچوں کے والد اور اپنے خاندان کے واحد کفیل تھے۔ ان کے قتل کے بعد بیوہ، چار یتیم بچے اور ضعیف العمر والدہ شدید مشکلات کا سامنا کررہے ہیں، جبکہ خاندان گزشتہ تین سال سے زائد عرصے سے انصاف کا منتظر ہے۔
اس موقع پر مقتول کی ضعیف العمر والدہ ریشم جان نے پشتو زبان میں حکام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیٹے کے قاتلوں کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اس دن کی منتظر ہیں جب انہیں اپنے بیٹے کے قتل کا انصاف ملے گا۔
لواحقین نے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر، وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف، آئی جی پنجاب، آر پی او راولپنڈی اور ڈی پی او اٹک سمیت دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مقدمے کی ازسرنو تفتیش، شواہد کا جائزہ اور ذمہ داروں کی گرفتاری یقینی بنائی جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے۔