ملتان میں زیادتی اور ڈکیتی کا دعویٰ مبینہ طور پر جھوٹا نکلا، مخالف کو پھنسانے کے لیے 2 لاکھ 40 ہزار روپے دینے کا انکشاف

ملتان میں زیادتی اور ڈکیتی کا دعویٰ مبینہ طور پر جھوٹا نکلا، مخالف کو پھنسانے کے لیے 2 لاکھ 40 ہزار روپے دینے کا انکشاف

ملتان میں شوہر اور بچوں کے ہمراہ سفر کرنے والی خاتون سے مبینہ زیادتی اور ڈکیتی کے واقعے نے نیا رخ اختیار کر لیا۔ پولیس کے مطابق ابتدائی طبی معائنے اور تکنیکی شواہد کی روشنی میں واقعہ خود ساختہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ مخالف کو پھنسانے کے لیے مبینہ طور پر ڈرامہ رچانے کا الزام سامنے آیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق عابد نامی شخص کا ایک دوسرے فریق کے ساتھ مالی لین دین کا تنازع تھا۔ الزام ہے کہ عابد نے سعد نامی شخص اور اس کی اہلیہ کو مبینہ طور پر 2 لاکھ 40 ہزار روپے دیے اور انہیں ایک مخصوص مقام پر جا کر پولیس ایمرجنسی 15 پر کال کرنے، ڈکیتی کا ڈرامہ رچانے اور زیادتی کا الزام لگانے کا منصوبہ دیا۔

پولیس کے مطابق واقعے کے بعد ڈکیتی اور زیادتی کا مقدمہ درج کیا گیا، تاہم ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں زیادتی کے شواہد سامنے نہیں آئے۔ بعد ازاں تکنیکی شواہد کی بنیاد پر واقعے کے خود ساختہ ہونے کا شبہ مضبوط ہوا۔

پولیس نے مزید تفتیش کے لیے میاں بیوی سے رابطہ کیا تو مبینہ طور پر ان کے موبائل فون بند پائے گئے۔ جیو فینسنگ کے ذریعے عابد سے ان کے مسلسل رابطوں کا سراغ ملا، جس کے بعد عابد کو حراست میں لے کر تفتیش کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق عابد نے مبینہ طور پر اعتراف کیا کہ مالی تنازع کے باعث اس نے مخالف فریق کو پھنسانے کے لیے سعد اور اس کی اہلیہ کو رقم دے کر یہ منصوبہ تیار کیا تھا۔

پولیس نے جھوٹا مقدمہ درج کرانے اور مبینہ سازش کے الزام میں عابد اور میاں بیوی کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔ عابد کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ سعد اور اس کی اہلیہ کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

واقعے نے ذاتی دشمنی اور مالی تنازعات میں سنگین الزامات کو مبینہ طور پر بطور ہتھیار استعمال کرنے کے معاملے کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔ تاہم مقدمے کے حتمی حقائق کا تعین تفتیش اور عدالتی کارروائی کے بعد ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں