

کرک میں دہشت گردوں سے فائرنگ کا تبادلہ، ڈی ایس پی سی ٹی ڈی عمران الدین سمیت چار پولیس اہلکار شہید، دو دہشت گرد ہلاک ہونے کی اطلاعات
کرک میں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان شدید فائرنگ کے تبادلے میں ڈی ایس پی سی ٹی ڈی عمران الدین، ایس ایچ او افضل اعوان اور دو پولیس اہلکاروں امجد اور کاظم کی شہادت کی اطلاعات ہیں۔ مقابلے میں دو دہشت گردوں کی ہلاکت کی بھی اطلاع ہے۔
مشیرِ اطلاعات و تعلقاتِ عامہ خیبرپختونخوا ثمر ہارون بلور نے ڈی ایس پی عمران الدین کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس کے بہادر اور فرض شناس افسر کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے شہید کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ قیامِ امن تک جاری رہے گی اور شہداء کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔
دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے بھی کرک میں پولیس پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ڈی ایس پی سی ٹی ڈی عمران الدین سمیت چار پولیس اہلکاروں کی شہادت پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔
گورنر خیبرپختونخوا کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صوبے کی پولیس کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔ پولیس افسران اور جوانوں نے امن و امان کے قیام اور عوام کے تحفظ کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ پوری قوم پولیس شہداء کے اہلِ خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے اور شہداء کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔
نوٹ: پولیس مقابلے میں ہلاکتوں اور شہادتوں سے متعلق ابتدائی اطلاعات کی سرکاری تصدیق سامنے آنے پر تفصیلات میں تبدیلی ممکن ہے۔
٭ دہشت گردوں کے خلاف سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن کے دوران دو دہشت گرد جہنم واصل جبکہ ڈی ایس پی سی ٹی ڈی سمیت چار پولیس اہلکار شہید،
خیبر پختونخوا پولیس نے ضلع کرک میں دہشت گردوں کے خلاف سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن کے دوران بہادری اور پیشہ ورانہ عزم کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا۔ فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد جہنم واصل ہوئے جبکہ ڈی ایس پی (سی ٹی ڈی) عمران الدین خان، ایس آئی افضل اعوان، ڈی ایس پی سی ٹی ڈی کے گن مین کاظم اور بم ڈسپوزل یونٹ کے اہلکار امجد نے جامِ شہادت نوش کیا،
تفصیلات کے مطابق گزشتہ شب تھانہ خرم کی حدود میں واقع چرپیرا روڈ پر دہشت گردوں نے ناکہ بندی قائم کی تھی۔ واقعے کے بعد دہشت گردوں کی موجودگی اور نقل و حرکت کے خلاف کارروائی کے لیے آج دوپہر 12 بجے سرچ اینڈ اسٹرائیک آپریشن شروع کیا گیا۔
آپریشن کی قیادت ڈی ایس پی بانڈہ اور ڈی ایس پی سی ٹی ڈی کر رہے تھے، جبکہ بی ڈی یو، ڈرون ٹیم، ریسکیو 15 اور آر آر ایف کے اہلکار بھی کارروائی میں شریک تھے۔ آپریشن کے دوران چرپیرا میںدہشتگرد کمانڈر قیصر اقبال کے گھر پر چھاپہ مارا گیا، جہاں پولیس اور دہشت گردوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔فائرنگ کے تبادلے میں دو دہشت گرد مارے گئے جبکہ ڈی ایس پی سی ٹی ڈی عمران الدین خان، ایس آئی افضل اعوان ایس ایچ او تھانہ لتمبر، ڈی ایس پی سی ٹی ڈی کے گن مین کاظم اور بی ڈی یو اہلکار امجدبہادری سے مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہو گئے۔ آپریشن تاحال جاری ہے۔
ایس پی آپریشنز، ضلع کے تمام ایس ایچ اوز اور متعلقہ پولیس افسران آپریشن میں سرگرمِ عمل ہیں۔ پولیس کی جانب سے علاقے میں کارروائی جاری رکھتے ہوئے دہشت گردوں کے خلاف موثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
خیبر پختونخوا پولیس کے ان بہادر اہلکاروں نے دہشت گردی کے خلاف اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے فرض شناسی، شجاعت اور عوام کے تحفظ کے عزم کی روشن مثال قائم کی ہے۔ ان کی قربانیاں پولیس فورس کے اس غیر متزلزل عزم کی عکاس ہیں کہ دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھی جائے گی۔



