سوشل میڈیا پر لائبہ ستار کے مبینہ اغوا کا الزام پاک فوج پر عائد کیا جا رہا ہے، تاہم مارخور کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس معاملے میں مختلف حقائق سامنے آئے ہیں۔

سوشل میڈیا پر لائبہ ستار کے مبینہ اغوا کا الزام پاک فوج پر عائد کیا جا رہا ہے، تاہم مارخور کی ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس معاملے میں مختلف حقائق سامنے آئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، لائبہ کے گھر سے جانے کے بعد ایک خط ملا، جس میں اس کے کسی دہشت گرد تنظیم کے ساتھ جانے کا ذکر تھا، تاہم ابتدائی تحقیقات میں اس خط کے مبینہ طور پر جعلی ہونے کی معلومات سامنے آئیں۔

مزید چھان بین سے معلوم ہوا کہ مارچ 2026 میں لائبہ کے پولیس کانسٹیبل عبدالسلام کے ساتھ مبینہ تعلقات تھے۔ عبدالسلام نے شادی کے لیے لائبہ کے اہلِ خانہ سے رابطہ کیا، تاہم انکار کے بعد لائبہ مبینہ طور پر گھر سے چلی گئی اور عبدالسلام سے شادی کر لی۔

بعد ازاں اہلِ خانہ کو بھی اس تعلق اور گھر چھوڑنے کی وجہ کا علم ہوا۔ رپورٹ کے مطابق، اسی معاملے پر عبدالسلام اور لائبہ کے والد عبد الستار کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، جس کے دوران عبد الستار کو مبینہ طور پر عبدالسلام نے قتل کر دیا۔ واقعے کے بعد عبدالسلام کو پولیس ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔

مارخور کو موصول ہونے والی ابتدائی اطلاعات کے مطابق، دونوں اس وقت پنجاب میں روپوش ہیں، جبکہ پاک فوج کے ہاتھوں اغوا کے دعوے صرف ایک منظم پروپیگنڈا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں