خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کی تجویز، گورنر راج کا آپشن بھی زیر غور، انتظامی افسران کی تعیناتیوں کی فہرستیں تیار ہونے کا دعویٰ
پشاور: خیبرپختونخوا میں موجودہ سیاسی صورتحال کے تناظر میں ایمرجنسی کے نفاذ یا گورنر راج لگانے سے متعلق مشاورت جاری ہے، جبکہ ذرائع کے مطابق پہلے مرحلے میں صوبے کے 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس سلسلے میں ڈپٹی کمشنرز، سیکرٹریز اور ریجنل و ڈسٹرکٹ پولیس افسران کی ممکنہ تعیناتیوں اور انتظامی تبدیلیوں سے متعلق ہوم ورک مکمل کیے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ممکنہ فہرست میں ضم شدہ قبائلی اضلاع کے آٹھ اور بندوبستی علاقوں کے چار اضلاع شامل ہیں۔ قبائلی اضلاع میں باجوڑ، مہمند، خیبر، کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر جبکہ بندوبستی اضلاع میں لکی مروت، بنوں، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان کے نام سامنے آئے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق کوہاٹ ڈویژن کے دو اضلاع بھی ممکنہ فہرست میں شامل بتائے جا رہے ہیں، تاہم ان اضلاع کے ناموں کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی۔ اسی طرح پشاور ڈویژن کے دو اور ملاکنڈ ڈویژن کے ایک ضلع میں بھی ایمرجنسی کے نفاذ کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جبکہ مردان اور ہزارہ ڈویژن کا کوئی ضلع ممکنہ فہرست میں شامل نہ ہونے کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ کرنے کے حوالے سے حتمی فیصلہ وفاقی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان رابطوں اور مذاکرات کی صورتحال سے مشروط ہے۔ اگر فریقین کے درمیان معاملات طے پا جاتے ہیں تو ایمرجنسی یا گورنر راج نافذ نہ کرنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان باضابطہ مذاکرات شروع ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی، تاہم ذرائع کے مطابق پس پردہ رابطے جاری ہیں اور وفاقی سطح پر مختلف پیغامات کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔
ادھر پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں کی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی سے ملاقات متوقع ہے، جس میں صوبے کی مجموعی سیاسی صورتحال، وفاقی سطح پر ملنے والے پیغامات اور مجوزہ لانگ مارچ کے حوالے سے مشاورت کی جائے گی۔
پی ٹی آئی ذرائع کے مطابق پارٹی کے سینئر رہنما وزیراعلیٰ کو وفاقی سطح پر ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کریں گے، جبکہ موجودہ صورتحال میں آئندہ کے لائحہ عمل اور اہم سیاسی فیصلوں پر بھی تبادلہ خیال متوقع ہے۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی یا گورنر راج کے نفاذ، 12 اضلاع کی ممکنہ فہرست اور انتظامی تبدیلیوں سے متعلق اطلاعات کی تاحال سرکاری سطح پر حتمی تصدیق سامنے نہیں آئی۔