اٹک میں ریت کے ڈمپر کے معمولی تنازع پر دو افراد کا بہیمانہ قتل، سر دھڑ سے جدا، دوہرے قتل کا مقدمہ درج
اٹک: تحصیل حسن ابدال میں ریت کے ڈمپر کا پھیرا نہ لے جانے کے معمولی تنازع پر دو سگے بھائیوں سمیت تین افراد پر ڈمپر ڈرائیور اور کنڈیکٹر کو تیز دھار آلے کے وار کرکے قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ مقتولین کے سر دھڑ سے جدا کیے جانے کی بھی اطلاع ہے۔
پولیس کے مطابق قندھاری کے رہائشی شاویز خان نے تھانہ صدر حسن ابدال میں مقدمہ درج کراتے ہوئے بتایا کہ اس کا 34 سالہ بھائی حافظ ذیشان علی اپنا ذاتی ڈمپر چلاتا تھا جبکہ جواد علی سکنہ بہوٹی پنڈ ٹیکسلا گزشتہ ایک سال سے اس کے ساتھ کنڈیکٹر کے طور پر کام کر رہا تھا۔
درخواست کے مطابق احد علی سکنہ پوڑ میانہ نے ریت کا ڈمپر منگوایا تھا۔ ذیشان علی نے اپنے چھوٹے بھائی جنید خان کو بتایا کہ وہ احد علی، عبداللہ اور عامر کے ہمراہ ریت کا پھیرا اتارنے کے لیے پوڑ میانہ جا رہا ہے اور ڈمپر کامرہ شرقی میں ملک جاوید ایڈووکیٹ کے ڈیرے کے سامنے کھڑا ہے۔
بعد ازاں ذیشان علی سے موبائل فون پر رابطہ کیا گیا تو فون بند ملا۔ اہل خانہ نے پوڑ میانہ جا کر خشک نہر شرقی کے قریب ذیشان علی اور کنڈیکٹر جواد علی کی خون میں لت پت لاشیں دیکھیں۔ مقدمے کے مطابق دونوں کے سر اور جسم کے مختلف حصوں پر تیز دھار آلے کے متعدد وار کیے گئے تھے۔
مدعی کے مطابق قتل سے دو روز قبل ذیشان علی نے بتایا تھا کہ عبداللہ اور عامر، پسران کچکول خان، ریت کا پھیرا نہ لے جانے پر حسن ابدال اڈا پر اس سے ناراض ہوئے تھے۔ مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اسی رنجش پر عبداللہ، عامر اور احد علی نے باہم مشورے سے دونوں کو تیز دھار آلے کے وار کرکے قتل کیا اور ڈمپر راستہ کم ہونے کے باعث ملک جاوید ایڈووکیٹ کے ڈیرے کے سامنے کھڑا کرکے فرار ہوگئے۔
انچارج ایچ آئی یو سرکل حسن ابدال انسپکٹر املاک احمد نے دفعہ 302 اور 34 تعزیراتِ پاکستان کے تحت دوہرے قتل کا مقدمہ درج کرکے واقعے کی تفتیش شروع کردی ہے۔