افغانستان میں طالبان کی اعلیٰ قیادت کے خلاف گرفتاری کے وارنٹس منظرِ عام پر آگئے عالمی فوجداری عدالت کا خواتین اور لڑکیوں پر مبینہ صنفی بنیادوں پر ظلم و ستم کے الزامات پر سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ، چیف جسٹس اور تعلیم کے وزیر شامل ہیں

بریکنگ نیوز: افغانستان میں طالبان کی اعلیٰ قیادت کے خلاف گرفتاری کے وارنٹس منظرِ عام پر آگئے

عالمی فوجداری عدالت کا خواتین اور لڑکیوں پر مبینہ صنفی بنیادوں پر ظلم و ستم کے الزامات پر اہم اقدام

دی ہیگ، 5 اکتوبر 2026: عالمی فوجداری عدالت (ICC) نے افغانستان کی صورتِ حال سے متعلق طالبان کے چار اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف گرفتاری کے وارنٹس غیر خفیہ کر دیے ہیں۔ عدالت کے مطابق یہ وارنٹس انسانیت کے خلاف مبینہ جرم، یعنی صنفی بنیادوں پر ظلم و ستم، کے الزامات سے متعلق ہیں۔

وارنٹس کا سامنا کرنے والے طالبان عہدیداروں میں سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ، چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی، وزیر تعلیم حبیب اللہ آغا اور وزیر برائے اعلیٰ تعلیم ندا محمد ندیم شامل ہیں۔

عدالت کے مطابق الزامات کا تعلق افغانستان میں خواتین اور لڑکیوں کو تعلیم، نقل و حرکت، اظہارِ رائے اور دیگر بنیادی حقوق و آزادیوں سے محروم کرنے والی پالیسیوں سے ہے۔ ان الزامات میں صنفی شناخت یا اظہار کے حوالے سے طالبان کی پالیسی سے مختلف سمجھے جانے والے افراد اور خواتین کے حقوق کے حامیوں کے خلاف مبینہ کارروائیاں بھی شامل ہیں۔

آئی سی سی کے مطابق ان وارنٹس میں سے دو جولائی 2025ء اور دیگر دو ستمبر 2025ء میں جاری کیے گئے تھے، تاہم انہیں 5 اکتوبر 2026ء کو غیر خفیہ کیا گیا۔

یہ پیش رفت افغانستان میں انسانی حقوق کی صورتِ حال اور طالبان قیادت کی ممکنہ بین الاقوامی قانونی جواب دہی کے حوالے سے اہم قرار دی جا رہی ہے۔

وضاحت: گرفتاری کے وارنٹس الزامات اور عدالتی کارروائی کا حصہ ہیں؛ یہ بذاتِ خود کسی ملزم کے جرم ثابت ہونے کا حتمی فیصلہ نہیں ہیں۔

ماخذ: International Criminal Court کی 5 اکتوبر 2026ء کی سرکاری پریس ریلیز۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں