ماسکو فارمیٹ اجلاس، امیر خان متقی کی لاوروف سے ملاقات، پاکستان کے ساتھ مسائل مذاکرات سے حل کرنے پر زور

ماسکو میں افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی نے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف سے ملاقات کی، جس میں افغانستان اور روس کے دوطرفہ تعلقات، اقتصادی و تجارتی تعاون، علاقائی رابطوں، سکیورٹی اور سیاسی مشاورت کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات آٹھویں ماسکو فارمیٹ مشاورتی اجلاس کے موقع پر ہوئی۔

ماسکو فارمیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیر خان متقی نے کہا کہ افغانستان طویل جنگ کے دور سے نکل چکا ہے اور اب استحکام، معاشی بحالی اور علاقائی تعاون کی جانب بڑھ رہا ہے۔ ان کے بقول جدید دور میں سکیورٹی صرف فوجی معاملہ نہیں بلکہ معیشت، تجارت، توانائی، خوراک، پانی اور علاقائی رابطوں سے بھی منسلک ہے۔

متقی نے کہا کہ افغانستان خطے میں سکیورٹی کی رقابت کے بجائے مشترکہ سکیورٹی، معاشی انضمام، علاقائی رابطوں اور مذاکرات و مفاہمت پر مبنی نظام کا خواہاں ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امارتِ اسلامیہ نے داعش اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف کارروائی کی ہے جبکہ منشیات کے خلاف اقدامات بھی افغان سکیورٹی پالیسی کا اہم حصہ ہیں۔

افغان وزیر خارجہ نے پاکستان کے ساتھ تعلقات پر بھی تفصیلی موقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان سکیورٹی، سیاسی اور معاشی مسائل مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے حل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے پاکستان پر فوجی کارروائی اور دباؤ کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان کسی بھی جارحیت کے مقابلے میں اپنے دفاع کو اپنا حق سمجھتا ہے۔ یہ الزامات افغان فریق کا موقف ہیں۔

متقی نے پاکستان کے ساتھ باہمی الزامات کے بجائے مذاکرات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان مسائل کو حل کرنا چاہتا ہے، انہیں برقرار رکھنے کے لیے نئے ذرائع تلاش نہیں کرنا چاہتا۔

انہوں نے کہا کہ منشیات کا مسئلہ صرف افغانستان تک محدود نہیں بلکہ پورے خطے اور عالمی برادری کا مشترکہ مسئلہ ہے، اس لیے انسدادِ منشیات کے لیے علاقائی سطح پر سکیورٹی، تکنیکی اور معاشی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔

افغان وزیر خارجہ نے افغانستان کی معاشی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ترجیحات پیداوار، صنعت، زراعت، برآمدات، نجی شعبے اور سرمایہ کاری کا فروغ ہیں۔ ان کے مطابق افغانستان توانائی، معدنیات، زراعت، صنعت، ٹرانزٹ، لاجسٹکس اور بنیادی ڈھانچے کے شعبوں میں علاقائی سرمایہ کاری کا خواہاں ہے۔

انہوں نے افغانستان کو وسطی اور جنوبی ایشیا، چین، روس اور مشرق وسطیٰ کے درمیان علاقائی رابطے کے اہم مرکز کے طور پر پیش کرتے ہوئے تاپی، ٹاپ، کاسا 1000 اور ٹرانس افغان ریلوے سمیت مختلف علاقائی منصوبوں میں تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

متقی نے کہا کہ افغانستان کسی ایک ملک پر انحصار کرنے کے بجائے اپنے تجارتی اور معاشی تعلقات کو متنوع بنانا چاہتا ہے اور تمام ممالک کے ساتھ باہمی احترام، مشترکہ مفادات اور متوازن تعامل کی بنیاد پر تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے۔

انہوں نے روس کی جانب سے امارتِ اسلامیہ افغانستان کو تسلیم کیے جانے کو اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ دیگر ممالک بھی روس کی پالیسی کی پیروی کرتے ہوئے افغانستان کے ساتھ عملی سفارتی اور معاشی روابط بڑھائیں گے۔

دوسری جانب روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان کے ساتھ سیاسی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون جاری رکھنے کی حمایت کی اور دہشت گردی اور منشیات کے خلاف تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ روس نے افغانستان کو انسدادِ دہشت گردی کی صلاحیت مضبوط بنانے کے لیے مادی، تکنیکی اور ماہرین کی معاونت کی حمایت بھی ظاہر کی ہے۔

آٹھویں ماسکو فارمیٹ اجلاس میں افغانستان، روس، پاکستان، چین، ایران، بھارت اور وسطی ایشیائی ممالک کے نمائندے شریک ہوئے، جبکہ علاقائی سلامتی، انسدادِ دہشت گردی، معاشی تعاون اور علاقائی رابطوں سمیت افغانستان سے متعلق مختلف امور زیر بحث آئے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں