اسلامی امارت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ کونڑ اور ہلمند صوبوں میں پاکستانی طیاروں کے تازہ فضائی حملوں کے نتیجے میں 9 افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے ہیں۔

کونڑ اور ہلمند میں پاکستانی فضائی حملوں سے 9 افراد جاں بحق، 11 زخمی

کابل (بی این اے): اسلامی امارت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ کونڑ اور ہلمند صوبوں میں پاکستانی طیاروں کے تازہ فضائی حملوں کے نتیجے میں 9 افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے ہیں۔

ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق، گزشتہ رات پاکستانی طیاروں نے کونڑ کے شلتن ضلع کے چوگام اور ہلمند کے گرمسیر ضلع کے صفار علاقوں میں شہری گھروں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 9 افراد جاں بحق، 11 زخمی ہوئے جبکہ 3 مکانات منہدم ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی امارت ان حملوں کی مذمت کرتی ہے اور اسے تمام تسلیم شدہ اصولوں کے خلاف جارحیت اور جرم قرار دیتی ہے۔
پاکستانی صحافی حسن خان نے افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے بیان پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ شہریوں خصوصاً خواتین اور بچوں کی ہلاکت افسوسناک ہے، تاہم جن مقامات کو پاکستانی طیاروں نے نشانہ بنایا وہاں موجود بالغ مردوں کی تصاویر یا شناخت کیوں سامنے نہیں لائی جاتی۔

حسن خان نے کہا کہ طالبان ترجمان ہر کارروائی کے بعد خواتین اور بچوں کی ہلاکت کی تصاویر اور تفصیلات جاری کرتے ہیں، لیکن کسی بالغ مرد کی تصویر سامنے نہیں آتی۔ ان کے مطابق اگر طالبان اپنے دعووں کو درست ثابت کرنا چاہتے ہیں تو متاثرہ مقامات کو آزاد میڈیا یا بین الاقوامی نمائندوں کے لیے کھولنا چاہیے تاکہ آزادانہ طور پر حقائق کی جانچ کی جا سکے۔

حسن خان نے الزام عائد کیا کہ طالبان حکومت مختلف شدت پسند گروہوں کو پناہ، وسائل اور تحفظ فراہم کرتی ہے اور بعض جنگجو مبینہ طور پر اپنے خاندانوں کے ساتھ رہتے ہیں، جس کے باعث خواتین اور بچے ممکنہ طور پر انسانی ڈھال کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ٹھکانوں پر کارروائی کے بعد ہلاک ہونے والے جنگجوؤں کو شہری قرار دینے سے طالبان حکومت کی ساکھ متاثر ہوئی ہے۔

دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ رات پاکستانی طیاروں نے کنڑ کے ضلع شلتن کے چوگام اور ہلمند کے ضلع گرمسیر کے سفر میں شہری گھروں کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق کارروائی میں خواتین اور بچوں سمیت 9 افغان شہری ہلاک، 11 زخمی اور 3 گھر تباہ ہوئے۔ مجاہد نے اس کارروائی کو جارحیت اور قابلِ مذمت اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تسلیم شدہ اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

دونوں جانب سے سامنے آنے والے دعووں کے آزادانہ طور پر تصدیق شدہ شواہد اس بیان میں موجود نہیں ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں