فلائی دبئی کی پرواز FZ1073 سے متعلق ابتدائی اطلاعات کی مزید تصدیق سامنے آگئی ہے۔ رپورٹس کے مطابق دبئی سے تل ابیب جانے والی پرواز میں کاک پٹ کے اندر کپتان اور معاون پائلٹ کے درمیان شدید جھگڑا ہوا، جس کے دوران کپتان زخمی ہوئے اور طیارے کی پرواز میں اچانک خطرناک حد تک کمی آئی۔
اہم بات یہ ہے کہ طیارے کو کسی مسافر نے اکیلے لینڈ نہیں کرایا۔ فلائی دبئی کے مطابق اسی پرواز میں موجود ایک اضافی/ریزرو فلائی دبئی کریو نے صورتحال سنبھالی اور طیارے کو سعودی عرب کے شہر تبوک کے پرنس سلطان بن عبدالعزیز ایئرپورٹ پر بحفاظت اتارا۔
رپورٹس کے مطابق طیارے میں 170 سے زائد مسافر موجود تھے، جن میں بڑی تعداد اسرائیلی شہریوں کی تھی۔ فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا میں طیارے کے تقریباً 14 ہزار فٹ تیزی سے نیچے آنے کی نشاندہی ہوئی، جبکہ بعد ازاں اسے ہنگامی بنیادوں پر تبوک کی طرف موڑ دیا گیا۔
بھارتی کپتان سے متعلق رپورٹس بھی سامنے آئی ہیں، جبکہ حملہ کرنے والے معاون پائلٹ کی شناخت بعض اسرائیلی حکام نے عمانی شہری کے طور پر کی ہے؛ تاہم اس شناخت کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق ابھی نہیں ہوئی۔
اس واقعے کے محرکات ابھی واضح نہیں ہیں۔ اسرائیلی حکام نے اسے طیارہ گرانے کی مبینہ کوشش قرار دیا ہے، جبکہ فلائی دبئی نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے مسافروں اور عملے کے محفوظ ہونے کی اطلاع دی اور قبل از وقت قیاس آرائی سے گریز کی ہدایت کی ہے۔
اسی طرح نیتن یاہو کے ایک روز قبل اسرائیل پر ممکنہ حملوں سے متعلق بیان اور اس واقعے کے درمیان تعلق کا کوئی آزادانہ ثبوت سامنے نہیں آیا۔ الجزیرہ کی ٹائم لائن کے مطابق دونوں واقعات ایک دن کے فاصلے پر ہوئے، لیکن واقعے کو اس بیان سے جوڑنا فی الحال قیاس آرائی ہے۔
لہٰذا “نیا 9/11 اسکرپٹڈ پلان” یا واقعے کو پہلے سے طے شدہ منصوبہ قرار دینا اس وقت غیرمصدقہ دعویٰ ہوگا۔