اٹک پل پر توڑ پھوڑ، پولیس پر پتھراؤ اور سرکاری سامان چوری کرنے کے الزام میں 250 نامعلوم افراد کے خلاف 8 دفعات کے تحت مقدمہ درج

اٹک پل پر توڑ پھوڑ، پولیس پر پتھراؤ اور سرکاری سامان چوری کرنے کے الزام میں 250 نامعلوم افراد کے خلاف 8 دفعات کے تحت مقدمہ درج

اٹک خورد پل پر نصب رکاوٹیں دریا میں پھینکنے، سرکاری سامان چوری کرنے، کار سرکار میں مداخلت اور پولیس پر پتھراؤ کے الزام میں 250 نامعلوم افراد کے خلاف تھانہ اٹک خورد میں آٹھ سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا، پولیس نے واقعے کی ویڈیو کی مدد سے ملزمان کی شناخت کا عمل شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اے ایس آئی تھانہ اٹک خورد محمد فیضان کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق وہ سب انسپکٹر حامد نعیم، اے ایس آئی محمد شہزاد، توقیر احمد، نزاکت حسین، ہیڈ کانسٹیبل عامر شہزاد، کانسٹیبلان ظہیر احمد، حماد احمد، توفیق احمد اور دیگر نفری کے ہمراہ اٹک خورد پل پر ڈیوٹی پر موجود تھے۔

ایف آئی آر کے مطابق پشاور کی جانب سے آنے والے تقریباً 250 نامعلوم افراد، جن میں سے اکثر ملحقہ آبادیوں خیرآباد اور جہانگیرہ کے رہائشی معلوم ہوتے تھے، نعرے بازی کرتے ہوئے پل پر پہنچے۔ پولیس کے مطابق مظاہرین ڈنڈوں اور آہنی راڈوں سے مسلح تھے اور ہنگامہ آرائی کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کو دھمکیاں دینے لگے۔

درج مقدمے میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ مشتعل افراد نے پولیس کو خوف زدہ کرنے کے لیے پتھراؤ کیا اور اہلکاروں کو ڈیوٹی پوائنٹ چھوڑنے پر مجبور کرنے کی کوشش کی۔ اس دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے نصب سرکاری لاجسٹک سامان کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا گیا، بعض رکاوٹیں دریا میں پھینک دی گئیں جبکہ کچھ سامان مبینہ طور پر چوری کرکے ساتھ لے جایا گیا۔

ایف آئی آر کے مطابق پولیس اہلکاروں نے مجمع کو سمجھانے اور منتشر کرنے کی کوشش کی، تاہم مبینہ طور پر ہنگامہ آرائی جاری رہی۔ پولیس نے دفعہ 144 کے نفاذ کی خلاف ورزی کا بھی الزام عائد کیا ہے۔

پولیس کے مطابق واقعے کی ویڈیو بنائی گئی ہے، جس کی مدد سے ملوث افراد کی شناخت کی جائے گی۔

تھانہ اٹک خورد پولیس نے تعزیرات پاکستان کی دفعات 379، 427، 186، 353، 506، 188، 148 اور 149 کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے، جس کی تفتیش سب انسپکٹر شیر فاضل کر رہے ہیں۔

واضح رہے کہ مقدمے میں عائد الزامات پولیس کے مؤقف پر مبنی ہیں، جبکہ نامزد ملزمان کی شناخت اور مؤقف سامنے آنا ابھی باقی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں