پاکستان افغانستان کشیدگی پاکستان کے فضائی حملوں میں چار افغانیوں کی ہلاکت کا طالبان کا دعویٰ پاکستان نے خبردار کیا کہ اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے 24 ستمبر کو جاری بیان میں پاکستانی فوجی کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں افغان خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کے مطابق پاکستانی فوج نے قندھار، پکتیا اور خوست صوبوں میں فضائی حملے کیے، جن کے نتیجے میں چار افغان شہری شہید ہوئے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے الزام عائد کیا کہ پاکستان نے ایک روز قبل افغان سرزمین سے ڈرونز پاکستانی حدود میں داخل ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے افغانستان میں فضائی حملوں کا جواز پیش کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان حکومت ان حملوں کو بلااشتعال جارحیت سمجھتی ہے اور ان کا مناسب اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستانی فوجی حلقے اپنے اندرونی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ایسے اقدامات کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کے غیر محتاط اور دشمنی پر مبنی اقدامات افغان عوام میں غم و غصے کا باعث بنیں گے اور ان کے منفی نتائج سامنے آئیں گے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ پاکستان 23 ستمبر کو افغان سرزمین سے پاکستان کی جانب ڈرونز چلائے جانے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ ان کے مطابق یہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی صریح خلاف ورزی اور ناقابل قبول جارحانہ اقدام تھا۔

عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان طویل عرصے سے افغان طالبان حکومت اور اس کے رابطہ کاروں کے سامنے افغان سرزمین پر دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور معاون نیٹ ورکس کی موجودگی پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتا رہا ہے۔ ان کے بقول ان نیٹ ورکس کے خلاف قابل اعتماد اور قابل تصدیق کارروائی کرنے کے بجائے افغان طالبان حکومت نے پاکستان کے خلاف ڈرون کارروائیوں کے ذریعے صورتحال کو مزید خراب کیا۔

وفاقی وزیر اطلاعات کے مطابق پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے تمام ڈرونز کو ان کے مطلوبہ اہداف تک پہنچنے سے پہلے ہی شناخت، ٹریک اور غیر مؤثر بنا دیا، جس کے نتیجے میں مجوزہ حملہ مکمل طور پر ناکام ہوگیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اپنی خودمختاری کے دفاع کے حق کے تحت افغانستان میں ڈرونز لانچ کرنے اور ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والے دس مقامات کی نشاندہی کے بعد فضائی اور ڈرون حملے کیے۔ پاکستانی حکومت کے مطابق یہ کارروائیاں سوچے سمجھے، درست، متوازن اور مناسب تھیں اور انہیں صرف ان عسکری اہداف تک محدود رکھا گیا جو پاکستان کے خلاف حملوں سے براہ راست منسلک تھے۔

عطاء اللہ تارڑ نے واضح کیا کہ پاکستان افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں کو کسی صورت قبول یا برداشت نہیں کرے گا، خواہ یہ دہشت گرد گروہوں کی جانب سے ہوں یا افغان طالبان حکومت کی طرف سے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خودمختاری کی کسی بھی خلاف ورزی کا فوری اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا۔

وفاقی وزیر نے افغان طالبان حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان کے خلاف تمام سرگرمیاں فوری طور پر بند کرے اور افغان سرزمین سے کارروائیاں کرنے والے دہشت گرد عناصر کے خلاف مؤثر، ٹھوس، قابل تصدیق اور مسلسل اقدامات کرتے ہوئے اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرے۔

پاکستانی حکومت نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ خطے میں کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتی اور علاقائی امن، مکالمے اور تعمیری روابط کے لیے پرعزم ہے، تاہم اس عزم کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ پاکستان اپنی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور شہریوں کی زندگیوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

دونوں جانب سے جاری بیانات میں ایک دوسرے پر جارحیت اور کشیدگی میں اضافے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ افغان طالبان حکومت نے چار شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ پاکستان نے اپنے فضائی حملوں کو افغان سرزمین سے ڈرون حملوں کے جواب میں دفاعی کارروائی قرار دیا ہے۔ فراہم کردہ بیانات میں افغان شہریوں کی ہلاکتوں اور حملوں کے اہداف سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ تصدیق شامل نہیں ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں