نوشکی میں پولیو ٹیم کی سیکیورٹی پر فائرنگ، 2 پولیس اہلکار شہید، بلوچستان کے وزیرداخلہ اور معاون برائے داخلہ کی شدید مذمت
کوئٹہ: نوشکی میں پولیو ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کے نتیجے میں دو اہلکار شہید ہوگئے۔ معاون برائے داخلہ بابر یوسفزئی کے مطابق فائرنگ میں ملوث دہشت گرد عناصر نے پولیو ٹیم کی حفاظت پر تعینات اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔
بابر یوسفزئی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پولیو ٹیم پر حملہ بلوچستان کے بچوں کے مستقبل پر حملہ ہے۔ ان کے مطابق دہشت گرد عناصر نہیں چاہتے کہ بلوچستان میں امن، ترقی اور بیماریوں کا خاتمہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ پولیو ایک خطرناک بیماری ہے جو بچوں میں مستقل معذوری کا سبب بن سکتی ہے جبکہ ویکسینیشن اس سے بچاؤ کا مؤثر ذریعہ ہے۔ پولیو ورکرز بچوں کو بیماری سے محفوظ رکھنے کے لیے گھر گھر جا رہے ہیں، اس لیے ان کی حفاظت ریاست اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
دوسری جانب وزیرداخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو نے نوشکی میں پولیو ٹیم کی سیکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے آئی جی پولیس اور ایڈیشنل سیکرٹری داخلہ سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی۔
میر ضیاء اللہ لانگو نے شہید اہلکاروں کے اہلخانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیو ورکرز کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنانا بچوں کے محفوظ مستقبل پر حملہ ہے۔
وزیرداخلہ بلوچستان نے کہا کہ پولیو کے خلاف جنگ دراصل بلوچستان کے بچوں کو محفوظ اور صحت مند مستقبل دینے کی جنگ ہے۔ دہشت گرد عناصر بچوں کو بیماریوں سے محفوظ بنانے کی کوششوں کو نقصان نہیں پہنچا سکتے، حکومت بلوچستان بچوں کو پولیو سمیت تمام موذی بیماریوں سے محفوظ رکھنے اور انہیں پرامن ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔