حوثیوں کا سعودی عرب پر بڑا حملہ، 73 افراد زخمی، سعودی عرب کی جوابی کارروائی

🚨 بریکنگ نیوز: حوثیوں کا سعودی عرب پر بڑا حملہ، 73 افراد زخمی، سعودی عرب کی جوابی کارروائی

یمن کے حوثیوں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سے بڑے پیمانے پر حملے کیے، جن میں ابہا، خمیس مشیط، جازان اور نجران کو نشانہ بنایا گیا۔

سعودی حکام کے مطابق حملوں میں 73 افراد زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ سعودی وزارتِ توانائی کے مطابق مختلف توانائی تنصیبات اور مقامات پر آگ بھڑک اٹھی اور بعض آپریشنز عارضی طور پر روکنا پڑے۔

رپورٹس کے مطابق حوثیوں نے سعودی آرامکو کی جازان ریفائنری، ابہا کے بلک پلانٹ، خمیس مشیط میں کنگ خالد ایئر بیس اور ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ جازان میں آرامکو کی ریفائنری میں آگ لگنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔

حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کارروائی میں درجنوں بیلسٹک میزائل اور ڈرون استعمال کیے گئے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ یہ حملے یمن میں سعودی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے۔

سعودی عرب نے حملوں کو خطرناک escalation قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ مملکت اپنی خودمختاری کے دفاع سے گریز نہیں کرے گی۔ بعد ازاں سعودی عرب کی جانب سے یمن کے تعز اور مأرب سمیت علاقوں میں جوابی فضائی حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔

حالیہ حملوں نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی توانائی منڈیوں پر بھی دباؤ بڑھ گیا ہے، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی۔اہم: 73 زخمی ہونے کی تعداد سعودی حکام کی طرف سے دی گئی ہے؛ جبکہ جازان ریفائنری کے مکمل نقصان یا طویل مدتی پیداوار میں کمی کی حتمی تفصیلات ابھی زیرِ جائزہ ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں