ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کے غلط استعمال کے خلاف ایف بی آر کا کریک ڈاؤن، اپٹما کا خیرمقدم

اسلام آباد، 30 اگست: آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن (اپٹما) نے ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم (EFS) کے غلط استعمال کے خلاف ایف بی آر اور پاکستان کسٹمز کی کارروائی کا خیرمقدم کیا ہے۔

اپٹما کے چیئرمین کامران ارشد کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ بعض درآمد کنندگان کی جانب سے گرے فیبرک کو غلط ڈکلیئر کرکے EFS کے تحت ڈیوٹیز اور ٹیکسز سے چھوٹ حاصل کی جا رہی تھی، جس سے ملکی فیبرک مینوفیکچررز کو شدید نقصان پہنچ رہا تھا۔

اپٹما کے مطابق اگست 2025 میں SRO 1435(I)/2025 کے تحت گرے فیبرک کو EFS سے خارج کیے جانے کے باوجود تقریباً ایک سال تک مبینہ طور پر غلط ڈکلیئریشن کے ذریعے ایسی درآمدات جاری رہیں۔

ایسوسی ایشن نے کسٹمز کی جانب سے مشتبہ فیبرک کنسائنمنٹس کی فزیکل ویری فکیشن اور لیبارٹری ٹیسٹنگ کو درست اقدام قرار دیا۔ اپٹما کے مطابق بعض کنسائنمنٹس کی جانچ کے دوران مناسب ڈائینگ کے بجائے فوڈ کلرنگ کے استعمال کی نشاندہی بھی ہوئی اور خلاف ورزیوں کے کیسز ریکارڈ کیے گئے۔

اپٹما نے مطالبہ کیا کہ مستقبل میں EFS کے تحت درآمد ہونے والے تمام فیبرک کنسائنمنٹس، بشمول ڈرائی پورٹس پر آنے والی کھیپوں، کی فزیکل چیکنگ اور لیبارٹری ٹیسٹنگ یقینی بنائی جائے۔

پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ گرے فیبرک کی غلط ڈکلیئریشن سے نہ صرف قومی خزانے کو محصولات کا نقصان ہوتا ہے بلکہ مقامی صنعت کو بھی غیر منصفانہ مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اپٹما نے مزید مطالبہ کیا کہ EFS سے فائدہ اٹھانے والے درآمد کنندگان کی مینوفیکچرنگ سہولیات کی بھی جانچ کی جائے، کیونکہ مبینہ طور پر بعض درآمد کنندگان کے پاس فیبرک پروسیسنگ کے لیے مطلوبہ مشینری موجود نہیں اور درآمد شدہ فیبرک اوپن مارکیٹ میں منتقل کیا جا رہا ہے۔

ایسوسی ایشن نے کہا کہ جہاں خلاف ورزی ثابت ہو وہاں متعلقہ اداروں کے لائسنس معطل اور قانون کے مطابق فوجداری کارروائی کی جائے۔

اپٹما نے ایف بی آر سے مطالبہ کیا کہ غلط ڈکلیئریشن کے خلاف کارروائیاں جاری رکھی جائیں تاکہ مقامی مینوفیکچرنگ، روزگار اور قومی خزانے کا تحفظ ہو اور ایکسپورٹ فسیلیٹیشن اسکیم کو اس کے اصل مقصد کے بجائے ٹیکس و ڈیوٹی چوری کا ذریعہ بننے سے روکا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں