وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا جمیل چوک انڈر پاس کی سنگِ بنیاد تقریب سے خطاب پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے جمیل چوک انڈر پاس کی سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پشاور ریویٹیلائزیشن پلان کے تحت جاری منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے اور ان منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کے لیے آخری مراحل میں کام جاری ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ترقی کا سفر صرف پشاور تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خیبرپختونخوا میں ترقیاتی عمل جاری رکھا جائے گا۔ موجودہ مالی سال صوبے میں خوشحالی اور ترقی کا سال ہوگا۔ خیبرپختونخوا کا ریونیو 150 ارب روپے سے تجاوز کرگیا محمد سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 77 سال میں خیبرپختونخوا کا ریونیو 93 ارب روپے تھا، جسے موجودہ حکومت نے 150 ارب روپے سے زائد تک پہنچا دیا ہے۔ ان کے مطابق مالی سال 2026-27 کے لیے 180 ارب روپے کا ریونیو ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاہم حکومت 200 ارب روپے تک ریونیو حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ تمام تر مالی، سیاسی اور انتظامی چیلنجز کے باوجود خیبرپختونخوا حکومت بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ عوامی مینڈیٹ سے آنے والی حکومت ہی عوام اور صوبے کی ترقی کے لیے سوچتی ہے۔ ملکی معیشت اور سیکیورٹی پالیسی پر تنقید سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کے دور میں پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 6.1 فیصد تک پہنچی تھی، جبکہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت، کسان، مزدور اور نوجوان مشکلات کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بند کمروں میں کیے جانے والے فیصلوں اور غلط پالیسیوں سے نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ وزیراعلیٰ نے خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 22 سال سے جاری سیکیورٹی پالیسی کے باوجود دہشت گردی کا مسئلہ ختم نہیں ہوا۔ ان کے مطابق صوبے میں 14 بڑے اور 22 ہزار انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے باوجود بدامنی میں اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے سیکیورٹی پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔ عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونے پر تشویش وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ عدالتوں کے فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونا عدلیہ کی بے توقیری ہے۔ اگر عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہوگا تو عوام انصاف کے لیے کہاں جائیں گے؟ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام میں اداروں اور حکمرانوں کے خلاف غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔ 27 ستمبر کے احتجاج کا اعلان سہیل آفریدی نے کہا کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد میں بڑا احتجاج ہوگا اور تحریک انصاف اس کے لیے مکمل تیاری کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام آئینی، قانونی اور جمہوری راستے اختیار کرنے کے باوجود انصاف نہیں ملا، اس لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے آئینی و قانونی احتجاج کے حق کا احترام کریں۔ وزیراعلیٰ نے عوام سے اپیل کی کہ 27 ستمبر کو ہر طبقہ فکر کے لوگ اپنے اور پاکستان کے مستقبل کے لیے باہر نکلیں۔ انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر پاکستان میں ایک نئے دور کے آغاز کا دن ہوگا، ان شاء اللہ۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کا جمیل چوک انڈر پاس کی سنگِ بنیاد تقریب سے خطاب

پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے جمیل چوک انڈر پاس کی سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پشاور ریویٹیلائزیشن پلان کے تحت جاری منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے اور ان منصوبوں کی مقررہ مدت میں تکمیل کے لیے آخری مراحل میں کام جاری ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ترقی کا سفر صرف پشاور تک محدود نہیں رہے گا بلکہ پورے خیبرپختونخوا میں ترقیاتی عمل جاری رکھا جائے گا۔ موجودہ مالی سال صوبے میں خوشحالی اور ترقی کا سال ہوگا۔

خیبرپختونخوا کا ریونیو 150 ارب روپے سے تجاوز کرگیا

محمد سہیل آفریدی نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ 77 سال میں خیبرپختونخوا کا ریونیو 93 ارب روپے تھا، جسے موجودہ حکومت نے 150 ارب روپے سے زائد تک پہنچا دیا ہے۔

ان کے مطابق مالی سال 2026-27 کے لیے 180 ارب روپے کا ریونیو ہدف مقرر کیا گیا ہے، تاہم حکومت 200 ارب روپے تک ریونیو حاصل کرنے کی کوشش کرے گی۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ تمام تر مالی، سیاسی اور انتظامی چیلنجز کے باوجود خیبرپختونخوا حکومت بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ عوامی مینڈیٹ سے آنے والی حکومت ہی عوام اور صوبے کی ترقی کے لیے سوچتی ہے۔

ملکی معیشت اور سیکیورٹی پالیسی پر تنقید

سہیل آفریدی نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کے دور میں پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ 6.1 فیصد تک پہنچی تھی، جبکہ موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے باعث ملکی معیشت، کسان، مزدور اور نوجوان مشکلات کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو بند کمروں میں کیے جانے والے فیصلوں اور غلط پالیسیوں سے نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔

وزیراعلیٰ نے خیبرپختونخوا میں سیکیورٹی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 22 سال سے جاری سیکیورٹی پالیسی کے باوجود دہشت گردی کا مسئلہ ختم نہیں ہوا۔ ان کے مطابق صوبے میں 14 بڑے اور 22 ہزار انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز کے باوجود بدامنی میں اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے سیکیورٹی پالیسیوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔

عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونے پر تشویش

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ عدالتوں کے فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونا عدلیہ کی بے توقیری ہے۔ اگر عدالتی فیصلوں پر عملدرآمد نہیں ہوگا تو عوام انصاف کے لیے کہاں جائیں گے؟

انہوں نے دعویٰ کیا کہ عوام میں اداروں اور حکمرانوں کے خلاف غصہ بڑھتا جا رہا ہے۔

27 ستمبر کے احتجاج کا اعلان

سہیل آفریدی نے کہا کہ 27 ستمبر کو اسلام آباد میں بڑا احتجاج ہوگا اور تحریک انصاف اس کے لیے مکمل تیاری کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام آئینی، قانونی اور جمہوری راستے اختیار کرنے کے باوجود انصاف نہیں ملا، اس لیے قانون نافذ کرنے والے ادارے آئینی و قانونی احتجاج کے حق کا احترام کریں۔

وزیراعلیٰ نے عوام سے اپیل کی کہ 27 ستمبر کو ہر طبقہ فکر کے لوگ اپنے اور پاکستان کے مستقبل کے لیے باہر نکلیں۔

انہوں نے کہا کہ 27 ستمبر پاکستان میں ایک نئے دور کے آغاز کا دن ہوگا، ان شاء اللہ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں