آئی پی پیز کی آمدن کا انکم ٹیکس کہاں جاتا ہے؟ حافظ نعیم الرحمان

آئی پی پیز کی آمدن کا انکم ٹیکس کہاں جاتا ہے؟ حافظ نعیم الرحمان

پشاور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ حکومت عوام پر پٹرولیم لیوی عائد کرتی ہے جبکہ آئی پی پیز کو ٹیکس میں چھوٹ دی جاتی ہے، وزیراعظم شہباز شریف بتائیں کہ آئی پی پیز کی آمدن پر عائد انکم ٹیکس کہاں جاتا ہے۔

پشاور میں جماعت اسلامی کے پٹرولیم لیوی ختم کرو دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ آئی پی پیز کے معاملے پر حکومت کو مزید اقدامات کرنا ہوں گے اور عوام پر مہنگائی کا بوجھ ڈالنے کے بجائے اشرافیہ کو دی جانے والی مراعات ختم کی جائیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ جماعت اسلامی کے دباؤ کے نتیجے میں حکومت نے ڈیزل کی قیمت میں 32 روپے 63 پیسے فی لٹر کمی کی ہے، جو جماعت اسلامی کی احتجاجی تحریک کی کامیابی ہے، تاہم یہ صرف آغاز ہے۔

انہوں نے کہا کہ پٹرولیم لیوی کے خاتمے تک احتجاج جاری رہے گا اور حکومت نے مطالبات تسلیم نہ کیے تو دھرنوں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی ملک گیر ہڑتال اور اسلام آباد مارچ سمیت احتجاج کے آئندہ مراحل کا اعلان بھی کر سکتی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں عوام کو مزید ریلیف دیا جائے، پٹرولیم لیوی ختم کی جائے اور آئی پی پیز کے معاہدوں کا بھی ازسرنو جائزہ لیا جائے۔ ان کے مطابق اب بھی متعدد آئی پی پیز کے معاملات پر حکومت کو بات چیت کرنے کی ضرورت ہے۔
پشاور میں جماعت اسلامی کا دھرنا، حافظ نعیم الرحمان کا حکومت پر سخت تنقید
جماعت اسلامی کے زیر اہتمام پٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف پشاور میں جاری دھرنے میں امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمان پہنچ گئے، جہاں وہ دھرنے کے شرکاء اور کارکنان سے خطاب کریں گے۔

اس سے قبل جماعت اسلامی خیبرپختونخوا شمالی کے امیر اور سابق سینئر صوبائی وزیر عنایت اللہ خان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عوام پر ظلم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پہلے بھی آئی پی پیز کا مسئلہ اٹھایا تھا اور لوگوں کا خیال تھا کہ جماعت اسلامی اس معاملے پر خاموش ہوجائے گی، تاہم ایسا نہیں ہوا۔

عنایت اللہ خان نے کہا کہ جماعت اسلامی پٹرولیم لیوی کے معاملے پر عوام کو آگاہ کرے گی کہ ان کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں روزانہ تقریباً 6 لاکھ بیرل تیل استعمال ہوتا ہے، جبکہ پٹرولیم ڈویلپمنٹ کے لیے مختص کیے جانے والے اربوں روپے کے حوالے سے بھی حکومت سے سوال کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی یہ نکتہ اٹھایا تھا کہ کراچی پورٹ پر پٹرولیم مصنوعات کی قیمت تقریباً 220 روپے فی لٹر تک پہنچتی ہے، جس میں ٹیکسز اور ٹرانسپورٹیشن کے اخراجات شامل کیے جاتے ہیں۔ عنایت اللہ خان کے مطابق یہ نااہلی ہے کہ مختلف ٹیکسز اور لیوی کے نام پر عوام سے مزید رقم وصول کی جا رہی ہے۔

امیر جماعت اسلامی خیبرپختونخوا شمالی نے دعویٰ کیا کہ حکومت نے تقریباً 1500 ارب روپے پٹرولیم لیوی کی مد میں وصول کیے، لیکن حکومتی شاہ خرچیوں میں کمی نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس اور وزیراعلیٰ ہاؤس کے اخراجات بھی کم نہیں ہو رہے، جبکہ گزشتہ چار برس کے دوران ان شاہ خرچیوں پر اربوں روپے خرچ کیے گئے۔

عنایت اللہ خان نے کہا کہ ملک میں اس وقت مختلف سیاسی جماعتیں اپنے اپنے سیاسی معاملات میں مصروف ہیں، کوئی اپنے قائد کی رہائی کے لیے سرگرم ہے تو کوئی دیگر سیاسی معاملات میں الجھا ہوا ہے، جبکہ جماعت اسلامی عوام کے مسائل اور مہنگائی کے خلاف میدان میں موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ مالاکنڈ ڈویژن پر ٹیکس کا نفاذ بھی عوام کے لیے اہم مسئلہ ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے ٹیکس واپس لیا گیا، تاہم وفاقی حکومت نے تاحال اسے واپس نہیں لیا۔ انہوں نے وفاقی وزیر امیر مقام اور گورنر خیبرپختونخوا سے مطالبہ کیا کہ مالاکنڈ ڈویژن اور قبائلی اضلاع کے عوام سے کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں۔

عنایت اللہ خان نے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عوام کی مشکلات میں اضافہ کر رہا ہے اور حکومت کو عوام کو ریلیف دینے کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں