حج 2027: سرکاری و نجی حج اسکیموں کی رقوم وصولی کی ذمہ داری حبیب بینک کو دینے پر سوالات اٹھ گئے

حکومت کا حبیب بینک کو حج اسکیموں کی ذمہ داری دینے پر سوالات

سرکاری اور نجی حج اسکیموں کی درخواستیں اور اخراجات وصول کرنے کی مکمل ذمہ داری وزارتِ مذہبی امور نے وفاقی وزیرِ خزانہ کے سابق ادارے کے سپرد کردی ہے۔

انتخاب کے لیے شفاف طریقہ کار، تقابلی جانچ کے معیارات اور فیصلہ ساز کمیٹی کی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آسکی ہیں، پہلے ذمہ داری 16 مختلف بینک نبھاتے تھے۔

تقلیل مدتی زرفند کے جمع میں غیر معمولی اضافہ ہوگا، سرکاری اسکیم تحت شارٹ حج پیکیج کو 30 ہزار اخراجات 13 لاکھ روپے فی نامزد رقم 77 ہزار 526 ہے۔

سوال ہے کہ اسٹیٹ بینک یا وزارتِ مذہبی امور نے اس انتخاب سے قبل مفادات کے ٹکراؤ سے بچاؤ کی کوئی پالیسی وضع کی، مالی وانتظامی تجاویز سامنے لائی گئیں؟

اسلام آباد (مسعود جودری) حج 2027 کے لیے سرکاری اور نجی حج اسکیموں کی درخواستیں اور اخراجات وصول کرنے کی مکمل ذمہ داری وزارتِ مذہبی امور نے حبیب بینک لمیٹڈ کے سپرد کردی ہے، جبکہ ذمہ داری 16 مختلف بینکوں کے نیٹ ورک کے ذریعے نبھائی جاتی رہی ہے۔

بائیں جانب شائع شدہ متن:

حبیب بینک آف پاکستان کے انتخاب کے لیے شفاف طریقہ کار، تقابلی جانچ کے معیارات اور فیصلہ ساز کمیٹی کی تفصیلات تاحال عام نہیں کی گئیں۔ اس فیصلے پر سوال اٹھنا صرف انتظامی نوعیت کے نہیں بلکہ ممکنہ مفادات کے ٹکراؤ کی نوعیت کے بھی اٹھائے جا رہے ہیں۔

موجودہ وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب فروری 2018 سے مارچ 2024 تک حبیب بینک لمیٹڈ کے صدر اور چیف ایگزیکٹو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر وزارت کے 2023 کے سرکاری ریکارڈ میں HBL، UBL، NBP، MCB، BOP، ZTB، ABL، MCB Habib، Alfalah Bank، Islamic، Faysal، Askari، Metropolitan، Habib Al Bank اور Soneri سمیت متعدد بینک موجود تھے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں