پاکستان میں صحافیوں کی برطرفیوں پر عالمی صحافتی تنظیم IFJ کا شدید اظہارِ تشویش میڈیا ورکرز کے حقوق کے تحفظ اور جبری برطرفیاں روکنے کا مطالبہ


اسلام آباد: صحافیوں کی عالمی تنظیم انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس (IFJ) نے پاکستان میں میڈیا ورکرز کی جبری برطرفیوں، تنخواہوں کی عدم ادائیگی، ملازمت کے عدم تحفظ اور صحافیوں کو درپیش قانونی دباؤ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف، چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا کے نام ایک تفصیلی خط ارسال کیا ہے۔

22 جولائی 2025 کو جاری کیے گئے خط میں IFJ نے کہا کہ پاکستان کا میڈیا شعبہ سنگین بحران سے گزر رہا ہے، جہاں میڈیا کارکنوں کی مسلسل برطرفیاں، اجرتوں کی عدم ادائیگی، بنیادی مزدور حقوق سے محرومی اور صحافیوں کو قانونی و دیگر ذرائع سے ہراساں کیے جانے کے واقعات تشویشناک حد تک بڑھ چکے ہیں۔

خط میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ) کی جانب سے اٹھائے گئے تحفظات کی تائید کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا گیا کہ میڈیا کارکنوں کے روزگار کا تحفظ، بروقت تنخواہوں کی ادائیگی اور قومی و بین الاقوامی لیبر قوانین پر عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ ساتھ ہی PECA سمیت ایسے قوانین پر نظرثانی یا ان کی منسوخی کا مطالبہ بھی کیا گیا جنہیں IFJ کے مطابق آزادیٔ اظہار اور صحافتی تنقید کو محدود کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

IFJ نے اپنے خط میں مختلف میڈیا اداروں میں حالیہ برطرفیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنگ گروپ، نکتہ، آئیک نیوز، سنو نیوز اور دیگر اداروں میں میڈیا ملازمین کو نوکریوں سے فارغ کیا گیا، جبکہ بعض اداروں میں کئی ماہ کی تنخواہیں بھی واجب الادا ہیں۔ تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان برطرفیوں کی تحقیقات کرائی جائیں، تمام بقایا تنخواہیں ادا کی جائیں اور مستقبل میں غیر قانونی برطرفیوں کی روک تھام کے لیے مؤثر قانون سازی کی جائے۔

خط میں یہ بھی کہا گیا کہ الیکٹرانک، ڈیجیٹل، آن لائن، فری لانس اور غیر رسمی میڈیا کارکنوں کو بھی مکمل قانونی تحفظ فراہم کیا جائے، جبکہ صحافیوں کے خلاف FIA اور سائبر کرائم قوانین کے مبینہ غلط استعمال کا خاتمہ کیا جائے۔

IFJ نے اپنے اختتامی پیغام میں کہا کہ وہ پاکستانی حکومت اور متعلقہ اداروں کے ساتھ تعمیری مذاکرات کے لیے تیار ہے تاکہ صحافیوں کے حقوق، آزاد صحافت اور میڈیا کے مستقبل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں