سینئر رپورٹر عثمان جاوید ملک کے مبینہ جبری استعفے پر صحافتی حلقوں میں تشویش، میڈیا ورکرز کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ

سینئر رپورٹر عثمان جاوید ملک کے مبینہ جبری استعفے پر صحافتی حلقوں میں تشویش، میڈیا ورکرز کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ

اسلام آباد: سینئر صحافی اور رپورٹر عثمان جاوید ملک کے مبینہ طور پر جبری استعفے کے معاملے نے صحافتی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ مختلف صحافیوں، میڈیا ورکرز اور صحافتی تنظیموں سے وابستہ افراد نے اس معاملے کو صرف ایک فرد کا مسئلہ قرار دینے کے بجائے پورے میڈیا انڈسٹری میں ملازمت کے تحفظ، پیشہ ورانہ آزادی اور میڈیا ورکرز کے حقوق سے جوڑتے ہوئے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

صحافتی حلقوں کے مطابق عثمان جاوید ملک ان نوجوان صحافیوں میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے اپنی محنت، پیشہ ورانہ صلاحیت، جرات مندانہ رپورٹنگ اور مسلسل بہترین کارکردگی کے ذریعے مختصر عرصے میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ ان کی متعدد بریکنگ اور ایکسکلوسیو خبریں قومی میڈیا کی شہ سرخیاں بنیں، جبکہ ان کی بعض رپورٹس کو بین الاقوامی میڈیا میں بھی نمایاں کوریج ملی۔

ذرائع اور صحافیوں کے مطابق عثمان جاوید ملک نے سماء ٹی وی میں اپنی خدمات کے دوران کئی اہم تحقیقی رپورٹس، خصوصی انٹرویوز اور قومی اہمیت کی خبریں نشر کیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ انہیں اپنی بہترین کارکردگی پر متعدد مرتبہ “بیسٹ رپورٹر” کے اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ چند روز قبل انہوں نے وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کا خصوصی انٹرویو کیا تھا اور حج اخراجات سے متعلق ایک اہم خبر بھی بریک کی تھی۔

تاہم، سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے بیانات اور صحافتی حلقوں کے دعوؤں کے مطابق، بعد ازاں انہیں دفتر بلا کر مبینہ طور پر استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا۔ اس حوالے سے سماء ٹی وی کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، جبکہ اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

صحافیوں کا کہنا ہے کہ اگر بہترین کارکردگی دکھانے والے رپورٹرز بھی ملازمت کے تحفظ سے محروم ہوں تو یہ صرف ایک فرد کا معاملہ نہیں بلکہ پورے میڈیا سیکٹر کے مستقبل کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ ان کے مطابق میڈیا اداروں میں مالی یا انتظامی فیصلوں کا بوجھ ملازمین پر ڈالنا مناسب طرز عمل نہیں، کیونکہ صحافی دن رات خطرات مول لے کر عوام تک بروقت اور مستند معلومات پہنچانے کی ذمہ داری ادا کرتے ہیں۔

صحافتی برادری سے وابستہ افراد نے وفاقی حکومت، وزارت اطلاعات و نشریات، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (PFUJ)، ریجنل یونینز اور دیگر متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ میڈیا ورکرز کے حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی اور عملی اقدامات یقینی بنائیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ جبری برطرفیوں اور مبینہ جبری استعفوں کے واقعات کا نوٹس لیا جائے، جبکہ سرکاری اشتہارات کی تقسیم کو میڈیا اداروں میں لیبر قوانین پر عمل درآمد، بروقت تنخواہوں اور ملازمت کے تحفظ سے مشروط کیا جائے۔

صحافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر آج ایسے معاملات پر خاموشی اختیار کی گئی تو مستقبل میں دیگر صحافی بھی اسی نوعیت کے حالات کا سامنا کر سکتے ہیں۔ ان کے مطابق وقت آ گیا ہے کہ پوری صحافتی برادری اپنے پیشہ ورانہ حقوق، وقار اور آزادیِ صحافت کے تحفظ کے لیے متحد ہو۔

صحافیوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ مضبوط صحافی ہی مضبوط صحافت کی ضمانت ہیں، اور آزاد و مضبوط صحافت ہی ایک جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں