جیو کو ’’سفر عشق‘‘ پر بند نہیں کیا گیا
میں عام طور پر جیو کے معاملات پر بات کرنے سے گریز ہی کرتا ہوں کیونکہ اس ادارے سے 21 سال کی وابستگی رہی ہے اور اس دوران اچھا برا سب دیکھا ہے جیو سے علیحدگی ناخوشگوار طریقے سے ہوئی لیکن چونکہ میں ادارے میں ملازمین کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے جہاں تک چلا گیا تھا وہاں ایسے کسی فیصلے کے لیے ذہنی طور پر تیار تھا اس لیے کبھی کوئی پچھتاوا نہیں ہوا۔ لیکن جیو کو اس طرح بند دیکھ کر آج تکلیف ہورہی ہے جیو ماضی میں متعدد ادوار میں مختلف طریقوں سے بند رہا ہے چاہے وہ جنرل پرویز مشرف کا 2007 ہو یا ٹھیک سات سال بعد 2014 میں حامد میر پر حملے کے بعد جیو کو کیبل آپریٹرز کے ذریعے بند کیے جانا ہم نے یہ سب دیکھا ہے اور صرف یہی نہیں جیو کو مختلف وقتوں میں پیمرا کے شوکاز نوٹس بھی ملتے رہے ہیں اور جیو کے مالک میر شکیل الرحمن کے خلاف ملک بھر میں ایف آئی آرز بھی درج ہوتی رہی ہیں۔ 2014 میں جیو کے مارننگ شو جیو پاکستان جس کی میزبانی اس وقت شائستہ لودھی کرتی تھیں اس میں وینا ملک اور ان کے شوہر اسد بشیر خٹک کی موجودگی میں ایک مذہبی قوالی پیش کرنے پر اسلام آباد سے جو مقدمات درج کرنے کا سلسلہ شروع ہوا تھا وہ دنوں میں پورے ملک میں پھیل گیا تھا۔ مجموعی طور پر میر شکیل الرحمن اور شائستہ لودھی کے خلاف 99 مقدمات درج ہوئے تھے سنچری بس ہونے ہی والی تھی جبکہ 9 مقدمات گلگت بلتستان میں بھی درج ہوئے تھے اور ملک کے اس دور دراز علاقے میں ایک ایسے ہی مقدمے میں میر شکیل الرحمان، شائستہ لودھی، وینا ملک اور ان کے شوہر اسد خٹک کو 26/26 سال قید کی سزا بھی سنادی گئی تھی تاہم بعد میں گلگت بلتستان کی اپیلیٹ کورٹ نے اپیل پر چاروں افراد کو بری کردیا تھا، ملک کے دیگر شہروں میں درج ہونے والے مزید کسی بھی مقدمے میں کبھی کارروائی آگے نہیں بڑھ سکی تھی اور اس دور میں جیو پر دباو ڈال کر جو فیصلے کرانا تھے وہ کرالیے گئے تھے
اب ایک بار پھر جیو کے خلاف وہی ہتھیار استعمال کیا گیا ہے الحمداللہ بطور مسلمان میرا بھی ایمان ہے کہ اصحاب رسول یا اہلبیت کی تصاویر چاہے وہ کسی بھی طرح بنائی گئی ہوں ایک غلط عمل ہے اور ہم بطور مسلمان ماضی میں بعض غیر مسلموں کی جانب سے متنازعہ خاکوں کی اشاعت پر بھرپور ردعمل دے کر یہ ثابت کرچکے ہیں کہ یہ ایک مذہبی منافرت پھیلانے والا عمل ہے لیکن جو معاملہ آج درپیش ہے یہ متنازعہ خاکوں سے ہٹ کر ہے بعض مسلم ممالک میں آج بھی واقعہ کربلا کی سنگینی اور یزید کے مظالم کو اجاگر کرنے کے لیے شبیہات کا سہارا لیا جاتا ہے میں کسی مخصوص چینل کا نام نہیں لینا چاہتا لیکن پاکستان میں بعض چینلز ماضی میں بھی اس طرح کی ڈاکومینٹریز دکھا چکے ہیں اگر وہ عمل اس وقت درست تھا تو آج غلط کیسے ہوگیا لہذا میرا ماننا ہے کہ جیو جو بظاہر تو پہلے ہی چاروں شانے چت ہوچکا ہے اور ملک میں انسانی حقوق، آزادی اظہار رائے اور آزادی صحافت کو سختی سے کچل دیے جانے پر بھی چپ سادھے ہوئے ہے اس سے مزید کوئی ایسا مطالبہ کیا گیا ہے جسے فی الحال تو میر شکیل الرحمن نے ماننے سے انکار کردیا ہے اور اس انکار کی پہلی سزا 15 دن کے بلیک آوٹ کی صورت میں ملی ہے۔
میری اطلاعات کے مطابق پاکستان کے مختلف میڈیا ہاوسز پر گذشتہ دنوں انڈین ہیکرز کی جانب سے متعدد حملے کیے گئے ہیں اور اس میں بھی سب سے زیادہ حملے جیو پر ہوئے جیو ڈیجیٹیل ایک سے زائد مرتبہ ہیک ہوچکا ہے اس کا سرور کئی دن تک ہیک رہا ہے جس سے ڈیجیٹیل پر لائیو نشریات میں بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انڈین ہیکرز جیو ڈیجیٹل کو ہیک کرکے وہاں اپنے گالیوں بھرے پیغامات چھوڑ جاتے ہیں اور یہ سلسلہ رک نہیں رہا ہے جس سے ناصرف جیو بلکہ پیمرا سمیت دیگر اداروں کو بھی سبکی کا سامنا ہے۔ ایسا آخری بار جب ہوا تو جیو کی انتظامیہ کو پیمرا کی جانب سے یہ وارننگ دی گئی تھی کہ وہ اس کا حل نکالیں ورنہ جیو ڈیجیٹل بند کردیں یہ وارننگ بعض اہم افراد کی موجودگی میں دی گئی تھی لیکن لگ یہ رہا ہے کہ جیو کی انتظامیہ کی جانب سے اسے سیریس نہیں لیا گیا ہے کیونکہ اس ہیکنگ سے بچنے کے لیے بھی جس نوعیت کے اقدامات کی ضرورت ہے اس کے لیے خطیر رقم چاہیے جو مالکان شاید نکالنا نہیں چاہتے تھے لیکن اب نکالنا پڑ جائے گی۔
میڈیا مالکان چاہے کوئی بھی ہوں ڈیجیٹل ان کے لیے سونے کی کان ثابت ہورہا ہے الیکٹرانک میڈیا تقریبا ختم ہوچکا ہے اور اب جتنا بھی باقی بچا ہے وہ کلپ کی صورت میں ڈیجیٹل میڈیا کے ذریعے ہی دیکھا جارہا ہے۔ ڈیجیٹل میڈیا کی اس سونے کی کان سے میڈیا مالکان بھر بھر کر سونا نکال رہے ہیں لیکن میڈیا ورکرز کو دینے کے لیے تیار نہیں ہیں جیو میں 2023 میں ورکرز کمیٹی نے جس احتجاج کا آغاز کیا تھا اس کا بھی بنیادی نکتہ یہی تھا کہ جیو میں 2017 سے تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا تھا جیو کی انتظامیہ ورکرز کے اس احتجاج سے اتنی پریشان ہوگئی تھی کہ ایک طرف ورکرز کمیٹی کو مذاکرات میں انگیج کیا اور دوسری طرف این آئی آر سی پہنچ گئی اور ایک متنازعہ ترین جج نے جیو کی انتظامیہ کو وہ ریلیف دیدیا جو انہیں اس وقت درکار تھا۔ جیو کی انتظامیہ نے اس وقت تو اپنے ملازمین کو ان کے رائٹس دینے کی بجائے عدالتی راستہ اختیار کیا لیکن آج جب وہ ایک دفعہ پھر مشکل میں نظر آرہے ہیں اور کسی بھی وجہ سے یہ معاملات 15 دن سے آگے چلے گئے یا جیو کے مالکان کے خلاف مذہبی منافرت کے نئے مقدمات کا کوئی سلسلہ چل نکلا تو میر شکیل الرحمن اور میر ابراہیم الرحمن کو یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ان کی پاکٹ یونینز یا ایک دو پاکٹ لیڈرز کے علاوہ جیو کے ملازمین ان کے ساتھ پہلے کی طرح کھڑے نہیں ہوں گے جیسا کہ 2007 میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں کھڑے تھے یا 2014 میں حامد میر پر حملے کے بعد کھڑے تھے کیونکہ آپ نے ان کے حقوق سلب کیے ہوئے ہیں جیو میں آج بھی ایسے ملازمین موجود ہیں جن کی تنخواہوں میں 2017 کے بعد سے یعنی 9 سال سے اضافہ نہیں کیا گیا ہے تو جناب میر شکیل الرحمن صاحب اور میر ابراہیم الرحمن نوشتہ دیوار پڑھ لیجیے۔
Faheem Siddiqui کی وال سے