چھونگ چھنگ ایکسپو میں پاکستانی دستکاری کی دھوم، دوطرفہ تجارتی تعاون میں تیزی

چھونگ چھنگ (شِنہوا) چھونگ چھنگ میں منعقدہ 8 ویں ویسٹ چائنہ انٹرنیشنل فیئر فار انویسٹمنٹ اینڈ ٹریڈ (ڈبلیو سی آئی ایف آئی ٹی) میں پاکستانی پویلین پر نفیس پتھر سے تیار کردہ چائے کے سیٹس نمائش کی روشنیوں میں چمک رہے تھے۔ ہاتھ سے بنے لکڑی کے زیورات کے ڈبے، چمڑے کی مصنوعات اور روایتی ٹیکسٹائل نے شائقین کی بڑی تعداد کو اپنی جانب متوجہ کیا۔

پاکستانی پتھر کی مصنوعات کے ایک سٹال پر چھونگ چھنگ کی خریدار لیو نے پتھر سے بنی چائے کی میزیں، چائے کے کپ اور آرائشی گلدانوں کا بغور جائزہ لیا اور بعد میں نمائش کنندگان سے رابطے کی معلومات کا تبادلہ کیا۔

لیو نے کہا کہ ’’میں ابتدا میں صرف ویسے ہی دیکھ رہی تھی لیکن جلد ہی ان نفیس پاکستانی دستکاریوں نے میری توجہ حاصل کر لی۔ اب میں کچھ مصنوعات خریدنے کا ارادہ رکھتی ہوں۔‘‘

یہ مصروف منظر پاکستانی مصنوعات میں چینی صارفین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی اور چین اور پاکستان کے درمیان مضبوط ہوتے معاشی و تجارتی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔

4 روزہ میلہ 21 مئی کو چھونگ چھنگ میں شروع ہوا جس میں 50 ممالک اور خطوں سے تقریباً ایک ہزار 400 کمپنیوں نے شرکت کی۔ منتظمین کے مطابق اس دوران تعاون کے 212 منصوبوں پر دستخط کئے گئے جن کی مجموعی مالیت 150 ارب یوآن (22 ارب امریکی ڈالر) سے زائد ہے۔
’’نیو ویسٹرن چائنہ، نئی مینوفیکچرنگ، نئی خدمات‘‘ کے موضوع کے تحت منعقد ہونے والے اس سال کے میلے میں تقریباً 40 فورمز، سرمایہ کاری سے متعلق ملاقاتیں اور تجارتی سرگرمیاں شامل ہیں۔ پاکستان، میکسیکو، بیلاروس، جاپان اور آسٹریلیا سمیت کئی ممالک نے قومی پویلین قائم کئے جو اس میلے کے بڑھتے ہوئے عالمی اثر و رسوخ کو ظاہر کرتے ہیں۔

پاکستانی پویلین میں نمائش کنندگان نے نہایت جوش و خروش سے ہاتھ سے تیار کردہ لکڑی کے فرنیچر، گھریلو ٹیکسٹائل، پتھر کی تراش خراش اور چائے کے برتنوں سمیت مختلف مصنوعات متعارف کروائیں جن کے ذریعے پاکستان کی روایتی دستکاری اور ثقافتی ورثے کو اجاگر کیا گیا۔

پاکستانی تاجر سیزان خان 20 مئی کو اپنے چند ساتھی تاجروں کے ساتھ پہلی بار اس میلے میں شرکت کے لئے چھونگ چھنگ پہنچے۔

خان نے کہا کہ ’’میں نے اس شہر کے بارے میں بہت سنا تھا اور جب میرا طیارہ لینڈ ہونے والا تھا تو میں نے رات کا منظر دیکھا۔ واقعی لوگ اسے سائبر پنک شہر کیوں کہتے ہیں، یہ سمجھ آ گیا۔ یہ مستقبل کا شہر محسوس ہوتا ہے اور مواقع سے بھرپور ہے۔‘‘

خان نے بتایا کہ وہ چمڑے کی مصنوعات، گھریلو ٹیکسٹائل، پتھر کی آرائشی اشیاء، چائے کے سیٹس اور لکڑی سے بنی گھریلو مصنوعات چینی مارکیٹ کو متعارف کرانے اور طویل مدتی تعاون کے مواقع تلاش کرنے کے لئے لائے ہیں۔
پاکستانی نمائش کنندگان کے لئے ڈبلیو سی آئی ایف آئی ٹی چینی خریداروں سے رابطے کا ایک اہم پلیٹ فارم بنتا جا رہا ہے۔

لکڑی کی گھریلو آرائشی اشیاء کے پاکستانی نمائش کنندہ محمد ثاقب نے بتایا کہ یہ ان کی اس میلے میں تیسری شرکت ہے۔ انہوں نے 10 سے زائد پاکستانی تاجروں کے ساتھ مل کر ہاتھ سے تیار کردہ نانمو لکڑی کے جیولری باکسز اور اروما تھراپی موم بتی ہولڈرز پیش کئے۔

محمد ثاقب نے کہا کہ ’’یہ مصنوعات چھونگ چھنگ کے رہائشیوں میں خاصی مقبول ہیں۔‘‘

ثاقب کے مطابق 2025 کے میلے کے دوران انہوں نے ایک ہزار سے زائد دستکاری اشیاء فروخت کیں اور کئی ہزار امریکی ڈالر کی آمدنی حاصل کی۔

ثاقب نے کہا کہ ’’پاکستان کے ہنرمندوں کے لئے یہ خاصی معقول آمدنی ہے۔ چینی صارفین کو ہماری لکڑی کی دستکاری پسند کرتے دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔‘‘

چھونگ چھنگ میونسپل کمیٹی برائے چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کی رکن ژو ینگ نے کہا کہ چین میں پاکستانی مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مقبولیت دونوں ممالک کے درمیان چین-پاکستان اقتصادی راہداری(سی پیک) کے تحت مضبوط ہوتے معاشی تعلقات کی عکاسی کرتی ہے جو بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا ایک اہم منصوبہ ہے۔

چین کی جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز کے مطابق 2025 میں چین اور پاکستان کے درمیان دوطرفہ تجارت 180.599 ارب یوآن تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 10.2 فیصد زیادہ ہے۔

پاکستانی نمائش کنندگان نے چین-پاکستان تجارتی تعاون کے مستقبل اور چین کے مغرب میں ابھرتے کاروباری مواقع پر اعتماد کا اظہار کیا۔

خان نے کہا کہ ’’چھونگ چھنگ ایک نہایت جدید شہر ہے جس میں وسیع تجارتی امکانات موجود ہیں۔ یہ میلہ پاکستانی کاروباروں کو چینی صارفین اور کمپنیوں سے براہ راست رابطے کا قیمتی موقع فراہم کرتا ہے۔ سی پیک کی مسلسل ترقی کے ساتھ ہم مستقبل میں مزید پاکستانی مصنوعات چین لائیں گے۔‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں