58

سندھ کا پولیس رولز میں ترامیم کا فیصلہ ملزم کی گرفتاری کے لئے تفتیشی پولیس افسر کے لئے لازم ہے کہ شواہد کی بنیاد پر گرفتار کیا جائے۔ بیرسٹر مرتضی وہاب

سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ،اب ہر کیس میں گرفتاری نہیں ہوسکے گی
حکومت سندھ کا پولیس رولز میں ترامیم کا فیصلہ
پولیس رولز میں ترامیم کا مسودہ تیار، سندھ کابینہ اجلاس میں منظور کرلیا گیا
پاکستان کے کرمنل جسٹس سسٹم میں ایک سقم ہے۔ بیرسٹر مرتضی وہاب
ایف آئی آر کٹتے ہی ملزم کو گرفتار کرلیا جاتا تھا۔بیرسٹر مرتضی وہاب

جب تک جرم ثابت نہ ہو اب گرفتاری نہیں ہوگی۔ بیرسٹر مرتضی وہاب

بے گناہ افراد کو گرفتار کرلیا جاتا ہے۔ مشیر قانون سندھ

اس طرح کی گرفتاریوں سے جیلوں اور عدلیہ پر بوجھ بڑھتا ہے۔بیرسٹر مرتضی وہاب

سندھ حکومت نے اس چیز کو محسوس کرتے ہوئے قانون میں ترمیم کا فیصلہ کیا۔ بیرسٹر مرتضی وہاب

اس پر پولیس حکام اور ماہرین سے مشاورت کی گئی۔ بیرسٹر مرتضی وہاب

اس ترمیم کا مقصد ایف آئی آر میں نام داخل ہونے سے ضروری نہیں کہ نامزد شخص کو گرفتار کیا جائے۔ بیرسٹر مرتضی وہاب

ملزم کی گرفتاری کے لئے تفتیشی پولیس افسر کے لئے لازم ہے کہ شواہد کی بنیاد پر گرفتار کیا جائے۔ بیرسٹر مرتضی وہاب

کیا ایسے شواہد موجود ہیں کہ جنکی بنیاد پر ملزم کو گرفتار کیا جائے۔ بیرسٹر مرتضی وہاب

بعض کیسز میں تفتیشی افسر اپنے اعلی افسر سے منظوری کے بعد ملزم کی گرفتاری عمل میں لائیگا۔ بیرسٹر مرتضی وہاب

مقدمے کی تفتیش کے بعد ملزم کی گرفتاری کا فیصلہ ہوگا۔ بیرسٹر مرتضی وہاب

گرفتاریوں سے متعلق پولیس کے اختیارات میں ترامیم کی گئی ہیں۔ بیرسٹر مرتضی وہاب

پولیس رول26میں ترمیم سے غیر ضروری گرفتاریوں کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ بیرسٹر مرتضی وہاب

غیر ضروری گرفتاریوں کو روکنے سے جیلوں میں انڈر ٹرائل قیدیوں کی تعداد میں بھی کمی آئے گی۔ بیرسٹر مرتضی وہاب

یہ انتہائی مثبت ترمیم اور اہم سنگ میل ہے جس سے لوگوں کو حقیقی انصاف مھیا ہوسکے گا۔ مشیر قانون سندھ

نیز ہی خالصتا شہریوں کے مفاد، جیلوں اور عدلیہ پر بے جا بوجھ کم کرنے کے لئے قدم اُٹھایا گیا۔ بیرسٹر مرتضی وہاب

ترمیم میں تعاون پر پولیس، محکمہ داخلہ، محکمہ قانون سندھ سمیت متلعقہ حکام کا شکر گزار ہوں۔ بیرسٹر مرتضی وہاب

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں