132

امریکی نیوز آرگنائزیشن سے منسلک صحافی نے بنوں سے گرفتار امریکی امام مسجد کا ہول کھول دیا ہ

سوشل میڈیا پر ہفتے کی صبح ایک خبر گردش کرنے لگی کہ پشاور میں عبداللہ نامی ایک امریکی امام کو گرفتار کیا گیا ہے، جن کا اصلی نام جان واکر ہے، تاہم ضلعی انتظامیہ نے اس کی تردید کردی۔
مزید تفصیل میں جانے سے پہلے یہ جانتے ہیں کہ آخر یہ جان واکر کون تھے؟ اور ان کے اتنے چرچے کیوں ہو رہے ہیں؟
یہ 2002 کی بات ہے جب خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں سے دو مذہبی علما کو پاکستان اور امریکہ کے ایک مشترکہ آپریشن میں گرفتار کرکے پشاور منتقل کیا جاتا ہے۔ ان علما میں سے ایک کا نام مفتی محمد التماس جبکہ دوسرے کا نام مولانا خضر حیات تھا۔
ان دونوں کو بنوں سے امریکی ایجنٹس نے گرفتار کیا تھا جس میں پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے معاونت فراہم کی تھی۔ یہ دونوں علما امریکی نژاد امام اور ’طالبان جنگجو‘ جان واکر کے استاد تھے، جنہیں ضروری پوچھ گچھ کے بعد رہا کردیا گیا تھا۔
امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) سے منسلک پشاور کے سینیئر صحافی محمد ریاض نے اس واقعے کی کوریج کی تھی، انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جان واکر ایک امریکی شہری تھے، جو 2000 میں پاکستان آئے تھے۔
جان واکر کے بنوں سے گرفتار کے استادوں سے محمد ریاض نے انٹرویو بھی کیا تھا اور مفتی التماس نے انہیں بتایا تھا کہ پوچھ گچھ کے دوران ان سے جان واکر کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔
محمد ریاض کے مطابق: ’مفتی التماس نے بتایا کہ امریکہ کو شک تھا کہ جان واکر دہشت گرد تنظیموں کے حمایت یافتہ ہیں، تاہم پوچھ گچھ کے دوران انہوں نے امریکی ایجنٹس کو بتایا کہ جان واکر امن پسند شخص تھے اور وہ بنوں میں مولانا خضر حیات کے کہنے پر مفتی التماس کے مدرسے میں 2000 میں دینی تعلیم کی غرض سے آئے تھے، جہاں انہوں نے چھ مہینے قیام کیا تھا۔‘
رپورٹ کے مطابق: ’مفتی التماس نے تفتیش کے دوران امریکی اہلکاروں کو بتایا تھا کہ ان کے مدرسے کا شدت پسندی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔‘
اے پی کی اس وقت کی رپورٹ کے مطابق مولانا خضر حیات پہلی مرتبہ تبلیغ کی غرض سے امریکہ میں جان واکر سے ملے اور انہیں بنوں آنے کی دعوت دی تھی۔ جان واکر ایک مذہبی شخص تھے۔ اسی طرح رپورٹ کے مطابق مولانا التماس نے انٹرویو میں بتایا تھا کہ ’جان واکر کے خیالات کا جھکاؤ طالبان کے بیانیے کی طرف تھا۔‘
اس کے بعد جان واکر کو امریکی عدالت میں ٹرائل کا سامنا بھی کرنا پڑا، جن پر امریکی شہریوں کو قتل کرنے اور بیرون ملک دہشت گرد تنظیموں کی مدد کرنے کا الزام تھا۔ جان واکر کو 2001 میں افغانستان کے شہر مزار شریف سے گرفتار کیا گیا تھا۔
’پہلے امریکی شہری جو افغان طالبان کا حصہ بنے‘
محمد ریاض نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ جان واکر پہلے امریکی شہری تھے جنہوں نے افغان طالبان میں شمولیت اختیار کی اور افغانستان میں لڑتے رہے جبکہ وہ پہلے قیدی تھے جنہیں امریکہ نے مشہورِ زمانہ گوانتاناموبے جیل بھیجا۔ امریکہ کی ہوم لینڈ سکیورٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق جان واکر ’امریکی طالب‘ کے نام سے مشہور تھے اور امریکی ریاست کیلی فورنیا کے رہائشی تھے۔
رپورٹ کے مطابق جان واکر بچپن سے ہی باسکٹ بال اور ہپ ہاپ میوزک کے شوقین تھے تاہم بعد میں ان کا لگاؤ اسلام کی جانب بڑھ گیا اور انہوں نے امریکہ کی مقامی مسجد میں اسلام قبول کیا۔
ملا عمر اسامہ بن لادن کو پسند نہیں کرتے تھے، سابق طالبان کمانڈر
مئی 2001 میں جان واکر پاکستان آگئے اور حرکت المجاہدین نامی تنظیم کے ساتھ وابستہ ہوگئے۔ رپورٹ کے مطابق بعد میں انہوں نے کچھ عرصہ اسی تنظیم کے جہادی ٹریننگ سینٹر میں گزارا اور پھر ’افغان جہاد‘ میں شمولیت کی خواہش ظاہر کی۔ اس کے بعد جان واکر افغانستان گئے اور کابل میں افغان طالبان سے ملے، جنہیں بعد میں القاعدہ کے زیر انتظام چلے والے ’الفاروق‘ ٹریننگ کیمپ بھیج دیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق دو مہینوں کی ٹریننگ کے دوران جان واکر نے راکٹ اور دستی بم چلانے کے ساتھ ساتھ دوسرے ہتھیار چلانے بھی سیکھ لیے تھے۔ اسی رپورٹ کے مطابق جس ٹریننگ کیمپ میں جان واکر ٹریننگ حاصل کر رہے تھے، وہاں پر اسامہ بن لادن بھی تین مرتبہ دورہ کر چکے تھے اور ایک دورے کے دوران جان واکر کے ساتھ پانچ منٹ تک بات بھی کی تھی۔
ٹریننگ کے بعد جان واکر نے امریکہ، اسرائیل اور یورپ کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ وہ شمالی الائنس (طالبان کے خلاف احمد شاہ مسعود کی سربراہی میں بننے والے اتحاد) کے خلاف بھی لڑتے رہے، تاہم رپورٹ کے مطابق 2001 میں انہوں نے شمالی الائنس کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے اور بعد میں ایک امریکی عدالت نے انہیں طالبان کو اسلحہ فراہم کرنے، امریکی سی آئی اے کے ایک اہلکار کو قتل کرنے اور بارودی مواد کے استعمال پر 20 سال قید کی سزا سنائی تھی۔
جان واکر کی 2019 میں امریکی جیل سے رہائی
امریکی اخبار ’نیویارک ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق جان واکر کو 2019 میں 17 سال قید میں گزارنے کے بعد رہا کردیا گیا، تاہم ان کی رہائی پر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خوش نہیں تھے۔
رپورٹ کے مطابق مئی 2019 میں ایک نیوز کانفرس کے دوران ٹرمپ نے بتایا تھا کہ انہوں نے امریکی جیل سے جان واکر کے رہا نہ ہونے کی کوشش کی تاہم اس کے لیے کوئی قانونی جواز نہیں بنتا تھا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ٹرمپ نے نیوز کانفرنس کے دوران بتایا تھا: ’میں جان واکر کی رہائی پر خوش نہیں ہوں تاہم امریکی حکومت کے بہترین قانون دانوں نے انہیں بتایا ہے کہ ان کی رہائی کو روکنے کا کوئی طریقہ موجود نہیں ہے، تاہم جان واکر کی حرکات کو مانیٹر کیا جائے گا۔‘
جان واکر کی رہائی کے حوالے سے اے پی کے ایک خبر میں لکھا گیا ہے کہ امریکی عدالت نے جان واکر کی رہائی اس بات سے مشروط کی ہے کہ ان کی انٹرنیٹ ڈیوائس میں مانیٹرنگ سافٹ ویئر ہونا چاہیے اور وہ جتنی بھی آن لائن کمیونیکیشن کریں گے، وہ انگریزی زبان میں ہوگی جبکہ ان کے پاس امریکی پاسپورٹ نہیں ہوگا اور نہ ہی وہ امریکہ سے باہر جا سکیں گے۔
جان واکر کا نام اب دوبارہ کیسے سامنا آیا؟
سوشل میڈیا پر آج صبح ایک خبر گردش کرنے لگی کہ پشاور میں ایک عبداللہ نامی امریکی امام کو گرفتار کیا گیا ہے، جن کا اصلی نام جان واکر ہے۔
تاہم پشاور کی ضلعی انتظامیہ نے ایک نوٹیفیکشن کے ذریعے ان خبروں کی تردید کردی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق: ’پشاور صدر کے رہائشی قاری عبداللہ کو گرفتار کیا گیا ہے، جو اپنے بچوں کو پولیو ویکسین پلانے سے انکاری تھے اور دوسرے لوگوں کو بھی ویکسین نہ پلانے کی ترغیب دے رہے تھے۔‘
ضلعی انتظامیہ کی طرف سے قاری عبداللہ کو ایک مہینے کے لیے سینٹرل جیل پشاور بھیجوا دیا گیا ہے۔ پشاور صدر کے سپرنٹنڈنٹ پولیس وقار احمد نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ یہ ایک مقامی قاری ہیں، جنہیں دو دن پہلے بچوں کو پولیو قطرے نہ پلانے اور دوسروں کو بھی نہ پلانے کی ترغیب دینے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ان قاری کی عمر تقریباً 27 سال ہے، ان کا جان واکر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی یہ جان واکر ہیں۔ وقار نے بتایا: ’یہ قاری ہر دفعہ پولیو مہم کے دوران مسائل پیدا کرتے تھے تو ڈپٹی کمشنر پشاور کی جانب سے ان کو ایک مہینے کے لیے تھری ایم پی او( نقض امن عامہ) کے تحت جیل بھیج دیا گیا ہے۔‘

اس سے پہلے سوشل میڈیا پر مارخور کے حوالے سے طلاعات کے مطابق ۔۔
بنوں ریجن میں ایک (امریکن) امام مسجد عبداللہ جس کا اصل نام جان والکر ہے شک کے بنا پر پکڑا گیا ہے، جبکہ بعد میں معلوم ہوا کہ ملزم امریکی CIA کے لئے کام کرتا تھا۔ #مارخور 💪🇵🇰

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں