98

ہم آپ کی تقریر نہیں سنیں گے، آپکی پہلے والی تقریر پر جلد فیصلہ ہو جائیگا۔ آپ ججز کے نام لے رہے ہیں جو کہ مناسب نہیں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عمر عطاء بندیال ریمارکس

ہم آپ کی تقریر نہیں سنیں گے، آپکی پہلے والی تقریر پر جلد فیصلہ ہو جائیگا۔ آپ ججز کے نام لے رہے ہیں جو کہ مناسب نہیں جسٹس شوکت عزیز صدیقی کیس کی سماعت کے دوران جسٹس عمر عطاء بندیال ریمارکس

سپریم کورٹ میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے سابق جج شوکت عزیز صدیقی برطرفی کیس

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بنچ سماعت کر رہا ہے

شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان کے دلائل جاری

میرے موکل کو چند قوتوں نے جان بوجھ کر ٹارگٹ کیا,وکیل حامد خان

آئین کے مطابق سپریم جوڈیشل کونسل خود انکوائری کرتی ہے,وکیل حامد خان

انکوائری کا کیا مطلب ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل خود بیان ریکارڈ کرتی,جسٹس مظہر عالم

تمام ریکارڈ اور شہادتوں کا جائزہ سپریم جوڈیشل کونسل نے لینا ہوتا ہے,وکیل حامد خان

میرے موکل کو شوکاز نوٹس جاری کر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا,وکیل حامد خان

شوکت عزیز صدیقی کو ہٹانا بدنیتی ہے,وکیل حامد خان

‏سپریم کورٹ میں سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی درخواست پر سماعت
ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید میرے موکل کے گھر آئے۔حامد خان
آپ کے موکل کے آئی ایس آئی کے لوگوں کیساتھ مراسم تھے،جسٹس بندیال
شوکت عزیز صدیقی اپنی نشست پر کھڑے ہو گئے۔ فوج میں کسی کے ساتھ بھی ذاتی مراسم نہیں۔شوکت صدیقی

‏جس پر جنرل فیض حمید نے مجھ سے پوچھا اگر اپیلیں آپ کے سامے مقرر ہوں تو آپکی رائے کیا ہو گی؟جس پر میں نے جواب دیا ہر جج اپنے حلف کہ مطابق اور کیس کے میرٹس پر فیصلہ کرتا ہے، اگر مقدمہ میرے سامنے مقرر ہوتا ہے تو میرٹس پر فیصلہ دونگا۔

‏میرا جواب سننے کے بعد جنرل فیض حمید نے جو الفاظ کہے وہ حیران کن اور افسوس ناک تھے ۔موصوف فرماتے ہیں “اس طرح تو ہماری دو سال کی محنت ضائع ہو جائیگی”
‏بند کمروں میں سرگوشی سے کھلی عدالت تک !
جسٹس شوکت عزیز صدیقی کیجانب سے کہی گئی تمام باتیں وقت کے ساتھ ساتھ سچ ثابت ہو رہی ہیں۔
معزز ججز صاحبان حقائق کو غیر اہم قرار دیتے ہوئے طریقہ کار کو سبکدوشی کی وجہ گردانتے نظر آ رہے ہیں۔

‏شوکت عزیز صدیقی روسٹرم پر آ گئے

میں نے تقریر پریشر کو کم کرنے کیلئے کی.بدقسمتی سے میں دسمبر 2015 سے زیر عتاب ہوں،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور آصف سعید کھوسہ مجھے نکالنا چاہتے تھے،شوکت عزیز صدیقی

ہم آپکی تقریر نہیں سننا چاہتے،آپ نے تو نام گنوانے شروع کر دیئے،جسٹس عطاء بندیال

‏سپریم کورٹ میں سابق جج شوکت عزیز صدیقی کی درخواست پر سماعت
ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید میرے موکل کے گھر آئے۔حامد خان
آپ کے موکل کے آئی ایس آئی کے لوگوں کیساتھ مراسم تھے،جسٹس بندیال
شوکت عزیز صدیقی اپنی نشست پر کھڑے ہو گئے۔ فوج میں کسی کے ساتھ بھی ذاتی مراسم نہیں۔شوکت صدیقی

‏جسٹس شوکت عزیز صدیقی آپ ایک ایماندار شخص ہیں۔یہ بات سب جانتے ہیں ۔جسٹس عمر عطاء بندیال
آپ کا بہت شکریہ۔ شوکت عزیز صدیقی
‏جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اپنی برطرفی کا ذمہ دار سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس آصف سعید کھوسہ کو قرار دیدیا۔ دونوں معزز ججز صاحبان دسمبر 2015 سے میری گردن کے پیچھے تھے۔ جسٹس شوکت صدیقی

‏یسٹس عمر عطاء بندیال نے شوکت عزیز صدیقی کو بات کرنے سے روک دیا۔ ہم آپ کی تقریر نہیں سنیں گے، آپکی پہلے والی تقریر پر جلد فیصلہ ہو جائیگا۔ آپ ججز کے نام لے رہے ہیں جو کہ مناسب نہیں ۔ جسٹس عمر عطاء بندیال

‏جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے وضاحت دینے کی کوشش کی مگر بینچ اٹھ گیا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں