سینئر صحافی، سابق ریزیڈنٹ ایڈیٹر نوائے وقت ملتان اور سابق صدر ملتان پریس کلب راؤ شمیم اصغر انتقال کر گئے

سینئر صحافی، سابق ریزیڈنٹ ایڈیٹر نوائے وقت ملتان اور سابق صدر ملتان پریس کلب راؤ شمیم اصغر انتقال کر گئے

ملتان: سینئر صحافی، روزنامہ نوائے وقت ملتان کے سابق ریزیڈنٹ ایڈیٹر، سابق صدر ملتان پریس کلب اور پی ایف یو جے (دستور) کے سابق سینئر نائب صدر راؤ شمیم اصغر انتقال کر گئے۔

ملتان پریس کلب کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مرحوم کی نمازِ جنازہ آج بروز اتوار نمازِ عصر کے بعد خان ویلیج، نزد گلگشت کالونی، ملتان میں ادا کی جائے گی۔

راؤ شمیم اصغر کی وفات پر صحافتی، ادبی اور سماجی حلقوں میں گہرے رنج و غم کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ساتھی صحافیوں نے انہیں ایک باوقار، بااصول اور خوش اخلاق شخصیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرحوم نے صحافت کے شعبے میں گراں قدر خدمات انجام دیں اور نوجوان صحافیوں کی رہنمائی میں بھی ہمیشہ پیش پیش رہے۔

صحافی خالد عظیم اور دیگر ساتھیوں نے راؤ شمیم اصغر کے ساتھ اپنی طویل رفاقت اور پیشہ ورانہ یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ مرحوم نے 1980 کی دہائی میں راولپنڈی سے شائع ہونے والے ہفت روزہ “دیہات” کے ایڈیٹر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں، بعد ازاں روزنامہ نوائے وقت ملتان سے وابستہ ہوئے، جہاں ان کی سیاسی ڈائریاں اور تجزیاتی تحریریں قارئین میں بے حد مقبول رہیں۔

پی ایف یو جے (دستور) اور مختلف صحافتی تنظیموں کے رہنماؤں نے مرحوم کی وفات کو پاکستانی صحافت کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ راؤ شمیم اصغر کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔

آج ملتان کی بے باک صحافت یتیم ہو گئی، میرے بڑے بھائی سابق ریزیڈنٹ ایڈیٹر نوائے وقت سابق سیکرٹری جنرل پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (دستور)سابق صدر ملتان پریس کلب سابق صدر انجمن صحافیان ملتان شمیم اصغر راؤ رضائے الہی سے اِنتقال فرما گئے ہیں ان کی نماز جنازہ آج بروز اتوار ان کی رہائش گاہ نیو گلگشت خان ویلیج ملتان بعد نماز عصر ۵۰۳۰ بجے ادا کی جائے گی تمام دوست و احباب سے شِرکت کی درخواست ہے
انا للہ و انا الیہ راجعون
اللہ کریم مغفرت فرمائے۔آمین

سئنیر صحافی ملک اعظم کا کہنا ہے
محترم جناب راؤ شمیم اصغر کے ساتھ 1980ء میں کچھ دن کام کرنے کا موقع ملا۔ ان دنوں راؤ شمیم اصغر راولپنڈی سے شائع ہونے والے ہفت روزہ ” دیہات “ کے ایڈیٹر تھے۔ جواں سال طاہر حنفی بھی ان کے ساتھ تھے۔ طاہر حنفی سے ان دنوں اچھی دعا سلام ہو گئی تھی۔ ایک دو مرتبہ ان کے گھر ٹنچ بھاٹہ بھی ان کے ساتھ گیا تھا۔ طاہر حنفی سے اب بھی گاہے گاہے رابطہ ہو جاتا ہے۔ تا ہم زیادہ رابطہ سوشل میڈیا کے ذریعے ہی رہتا ہے۔ ہفت روزہ دیہات کے مالک تاج عباسی ایک کاروباری شخصیت تھے ۔ ان کا آبائی تعلق مری سے تھا۔ سیاسی طور پر خاکسار تحریک کے ساتھ وابستہ تھے۔
ہفت روزہ دیہات کادفتر فیروز سنز بلڈنگ صدر میں تھا۔
ایک دن میں ہفت روزہ دیہات کے دفتر میں آیا تو راؤ شمیم اصغر انگریزی میں ایک درخواست ٹائپ کر رہے تھے۔ پتہ چلا کہ روزنامہ نوائے وقت کا اجراء ملتان سے بھی ہو رہا ہے۔ مختلف پوسٹوں کے لیے درخواستیں مانگی گئی ہیں۔ چنانچہ راؤ شمیم اصغر نے وہاں ایڈیٹر کے لیے درخواست دی ۔ چند دنوں کے بعد راؤ شمیم اصغر چلے گئے۔ پھر ان سے رابطہ نہ ہو سکا۔ البتہ روزنامہ نوائے وقت کے رنگین ایڈیشن میں جو سیاسی ڈائریاں چھپتی تھیں۔تو ان میں کبھی کبھی راؤ شمیم اصغر کی ڈائری ان کی تازہ تصویر کے ساتھ شائع ہوتی رہتی تھی۔ میں ان کی تحریر بڑے شوق سے پڑھتا تھا۔
راقم الحروف بعد ازاں 1980 کی دہائی میں جماعت اسلامی ضلع راولپنڈی کے شعبہ نشر و اشاعت میں آگیا۔ اس وقت ہر سال کبھی مرکزی اور کبھی صوبائی سطع پر میڈیا ورکشاپس ہوتی تھیں۔ جن میں شرکت کے لیے منصورہ لاہور جانا ہوتا تھا۔ اس وقت صفدر علی چودھری جماعت اسلامی پاکستان کے میڈیا انچارج تھے۔ وہاں مختلف اضلاع اور بڑے بڑے شہروں کے ناظمین نشر و اشاعت آتے تھے۔ اس موقع پر ملتان سے تعلق رکھنے والے ناظم نشرو اشاعت کنور محمد صدیق سے بھی ملاقات ہوتی تھی۔ ایک دفعہ میں نے ان سے راؤ شمیم اصغر کا پوچھا۔ تو انہوں نے بتایا کہ وہ نوائے وقت میں ہیں۔ ان سے اچھی سلام دعا ہے۔ میں نے ان سے ملاقات اور ان کے زیر سایہ کام کرنے کا بتایا اور کنور محمد صدیق کے ذریعے راؤ شمیم اصغر کو سلام بھیجا۔
2000ء میں جماعت اسلامی پاکستان کا کل پاکستان اجتماع عام قرطبہ راولپنڈی کے مقام پر ہوا۔ وہاں ملتان سے آئے ہوئے کنور محمد صدیق سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ راؤ شمیم اصغر بھی اجتماع عام میں دیگر صحافیوں کے ساتھ آئے ہوئے ہیں۔ چنانچہ کنور محمد صدیق مجھے مہمان صحافیوں کے اس کیمپ میں لے گئے۔جہاں راؤ شمیم اصغر ٹھہرے ہوئے تھے۔ وہاں راؤ شمیم اصغر سے ملاقات ہوئی۔ اب ان کے بال سفید ہو چکے تھے۔ کافی دیر گپ شپ رہی۔ آج ان کی وفات کی خبر ملی ہے۔ اللہ تعالی راؤ شمیم اصغر کی مغفرت فرمائے۔ ان کے پسماندگان کو اس عظیم صدمے اور دکھ پر صبر اور حوصلے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں