محمد صفدر میر: اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے والے مدیر
1970 کی دہائی کے اوائل میں روزنامہ مساوات کو ایک معیاری اور بااثر اخبار بنانے کے لیے ذوالفقار علی بھٹو نے صحافت کی متعدد نامور شخصیات کو اس کی ادارت سونپی، مگر بالآخر یہ ذمہ داری ممتاز صحافی، ادیب، ڈرامہ نگار اور دانشور محمد صفدر میر کے سپرد کی گئی، جو اس سے قبل پاکستان ٹائمز سے وابستہ تھے۔
1972 کے اواخر اور 1973 کے آغاز میں جب محمد صفدر میر مساوات کے ایڈیٹر تھے، اس وقت اخبار کے دفاتر لاہور میں داتا دربار کے عقب میں واقع تھے۔ میر صاحب نہ صرف ادارتی مضامین خود تحریر کرتے تھے بلکہ اپنے پرانے ساتھی ریاض جاوید کو بھی ساتھ لائے تھے جو اداریاتی نوٹس لکھتے تھے۔
جلد ہی ان کے اور پنجاب حکومت کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے۔ حکومت کی جانب سے بعض مخصوص موضوعات پر حمایت میں اداریے لکھنے کی خواہش ظاہر کی گئی، مگر صفدر میر نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ مساوات پاکستان پیپلز پارٹی کا ترجمان تو ہو سکتا ہے، پنجاب حکومت کا نہیں۔ اصولی اختلافات شدت اختیار کر گئے اور انہوں نے دفتر آنا بند کر دیا۔
اس دوران ان کے قریبی دوست اور اخبار کے نیوز ایڈیٹر عباس اطہر حکومت کے مؤقف کی حمایت کرتے رہے، جس پر صفدر میر شدید رنجیدہ تھے۔ کئی ہفتوں تک اخبار میں ان کا نام بطور ایڈیٹر شائع ہوتا رہا، مگر وہ عملی طور پر ادارتی ذمہ داریوں سے الگ رہے۔
بعدازاں ان کے گھر کے باہر مسلسل کئی راتوں تک ہوائی فائرنگ کے واقعات پیش آئے۔ شکایات کے باوجود کوئی مؤثر کارروائی نہ ہوئی، جس کے بعد انہوں نے باضابطہ طور پر مساوات کی ادارت سے استعفیٰ دے دیا۔
محمد صفدر میر محض ایک صحافی نہیں تھے بلکہ وہ ایک بڑے دانشور، نقاد، ڈرامہ نگار، ٹریڈ یونین رہنما اور ثقافتی شخصیت تھے۔ تقریباً نصف صدی تک وہ لاہور کی ادبی، سماجی اور ثقافتی زندگی کا اہم حوالہ رہے۔ اپنی زندگی کے آخری برسوں میں وہ روزنامہ ڈان میں “زینو” کے قلمی نام سے کالم لکھتے رہے اور اپنی فکری بصیرت سے قارئین کو متاثر کرتے رہے۔
ان کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ صحافت میں اصولوں اور آزادیِ رائے پر سمجھوتہ نہ کرنے کی قیمت بعض اوقات بہت بھاری ہوتی ہے، مگر یہی اصول انسان کو تاریخ میں ممتاز مقام عطا کرتے ہیں۔