ایکشن کمیٹی/حکومت!اعلی سطحی مذاکرات، ڈیڈ لاک برقرار مہاجرین نشستوں کے معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر اتفاق،

*عوامی ایکشن کمیٹی کا اہم اعلامیہ جاری*

حکومتِ پاکستان اور حکومتِ آزاد کشمیر کی جانب سے 9 جون کی دی گئی کال کو ملتوی کرنے کی درخواست کے باوجود 9 جون کی کال بدستور برقرار رہے گی۔

شوکت نواز میر نے عوام الناس سے اپیل کی ہے کہ وہ 9 جون کے پروگرام کی بھرپور تیاریاں جاری رکھیں

جموں عوامی ایکشن کمیٹی حکمرانوں کی جانب سے عوامی مسائل کے حل کے لیے کی جانے والی ہر سنجیدہ کوشش کا خیرمقدم کرتی ہے

اور اس عزم کا اظہار کرتی ہے کہ آئندہ بھی ہم ہر سنجیدہ کوشش کا خیر مقدم کریں گے
شوکت نواز میر

🚨 *ایکشن کمیٹی/حکومت!اعلی سطحی مذاکرات، ڈیڈ لاک برقرار*🟡

‼️ *مہاجرین نشستوں کے معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس بلانے پر اتفاق، مذاکرات کا اگلا دور آئندہ ہفتے ہوگا۔ مذاکرات کے بعد رانا ثناء اللہ کی میڈیا سے گفتگو*
🎄 *دوسری طرف جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اراکین نے مذاکرات میں ڈیڈلاک برقرار رہنے کے بعد اپنے اعلامیے میں 9 جون کی اعلان کردہ احتجاجی کال بھی برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔* 🍁

*مذاکرات ناکام۔۔۔۔۔ڈیڈ لاک برقرار*

ہر باشعور و فکرمند فرد چاہتا تھا کہ ایکشن کمیٹی اور حکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوں، کیونکہ اس سرزمین نے بہت کچھ دیکھا ہے۔ یہ دھرتی نعروں، وعدوں اور اختلافات سے زیادہ ان ماؤں کی آہوں کو جانتی ہے جنہوں نے اپنے جگر کے ٹکڑے کھوئے، گزشتہ احتجاج میں ہوئے شہداء کے بچوں کے آنسوؤں کو پہچانتی ہے جو اپنے باپ کی راہ تکتے رہ گئےہیں، اور ان بہنوں کے درد کو محسوس کرتی ہے جن کے بھائی عوامی حقوق اور حق ملکیت کے لیے آئے اور پھر واپس نہ لوٹ سکے۔

مذاکرات کا ناکام ہونا یقیناً مایوس کن ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ خطرناک وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک بار پھر تصادم، نفرت اور نقصان کی طرف لے جارہا ہے۔ ہم اپنے حقوق سے دستبردار ہونے کی بات نہیں کرتے، نہ ہی اپنے مطالبات سے پیچھے ہٹنے کا مشورہ دیتے ہیں، لیکن ہم یہ ضرور کہتے ہیں کہ مہاجرین کی نشستوں پر ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھایا جائے، کیونکہ اس کے اثرات صرف آج پر نہیں بلکہ آنے والی نسلوں اور پوری ریاست جموں کشمیر پر بھی پڑتے ہیں۔

یہ سرزمین اب مزید زخموں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ یہ اپنوں کے ہاتھوں اپنوں کا نقصان دیکھتے دیکھتے تھک چکی ہے۔ اسے شور نہیں، تدبر چاہیے۔ اسے تصادم نہیں، حل چاہیے۔ اسے ایسے فیصلے درکار ہیں جو آنے والے کل کو بہتر بنائیں۔
اختلاف اپنی جگہ، جدوجہد اپنی جگہ، لیکن امن اور عوامی مفاد کو ہر حال میں مقدم رہنا چاہیے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام فریقین کو ایسی حکمت عطا فرمائے جو اس قوم اور اس خطے کے لیے خیر، استحکام اور انصاف کا باعث بنے۔۔۔۔
جب کہ گزشتہ 16 گھنٹے قبل جب مذاکرات شروع ہوئے تھے اس وقت سوشل میڈیا واٹس ایپ پر پوسٹ موجود ہے کہ یہ مذاکرات کامیاب نہیں ہوں گے اور ایک دفعہ پھر ناکام ڈیڈ لاک کرے گی اور خبر سچ ثابت ہوئی
وفاق کی جانب سے ازاد کشمیر میں جنرل الیکشن کے شیڈول کا اعلان کرنے کا امکان جبکہ یہ دنیا کی واحد ریاست ہے کہ جس پر ابھی بھی صدارت کی کرسی خالی ہے اور قائم مقام صدر موجود ہیں جو کہ اسپیکر قانون ساز اسمبلی ازاد کشمیر ہیں نمبر دو الیکشن شیڈول 33 حلقوں کا ہوگا یا کہ 48 کا یہ ایک سوالیہ نشان ہے ذرائع کے مطابق 33 حلقوں کا شیڈول جاری ہونے کا امکان ہے جبکہ 12 حلقے جو مہاجرین کے ہیں ان کو ایک سائیڈ پر چھوڑا جائے گا جیسے کہ جب گراؤنڈ کے اندر میچ ہوتا ہے تو وہاں پر جو امپائر کام کرتے ہیں یہ تھرڈ امپائر کا کام کریں گے موقع دیکھتے ہی یہ بھی ایڈجسٹ کیے جائیں گے
31/5/2026
وقت اٹھ بج کر 55 منٹ یادداشت کے لیے
میں یہ سوچ کر حیران ہونکہ اس پہلے جب بھی ایکشن کمیٹی میدان میں آئی تو خون خرابا ہی ہوا بہت ساری معصوم جانوں کا نقصان ہوا اب حکومت پاکستان اور بلخصوص آزاد کشمیر حکومت کی یہ ذمہداری ہیکہ وہ اس کال کو سنجیدگی سے غور کریں اور ایکشن کمیٹی کے نتیجہ خیز مذاکرات کریں پہلے تو یہ 12سیٹوں پر غور کر کے ختم کریں اگر اتنا ہی ان سیٹوں کا ہونا ضروری ہے ختم نہیں ہو سکتی تو ان کو کم کر کے 5 تک لے 4 صوبوں کی اور 1 سیٹ وفاق کی یہی میرے خیال میں ایک درمیان راستہ جس سے آئندہ کے ہونے والے خون خرابے کو روکا جا سکتا ہے اور میری حکومت آزاد کشمیر سے اپیل ہے جو کہ جموں وکشمیر ہیومن رائٹس موومنٹ کے مرکزی چیرمین نور الحسن گیلانی صاحب بھی کئی بار اپنا بیان ریکارڈ کروا چکے ہیں کہ آزاد کشمیر میں سرکاری سطح پر انسانی حقوق کے تحفظ کا کمیشن قائم کیا جائے جو آئے روز ہونے والی انسانی حقوق کی پامالیوں کا جائزہ لے اور 27 ستمبر کی طرح 9 جون کو کچھ ایسا نہ ہو اور 9جون سے پہلے اس کمیشن کا اعلان کردیا جائے جو ایکشن کمیٹی اور حکومتی اداروں سے بات چیت کر کے اس کال کو واپس کروائے جس میں بہت سی انسانی حقوق کی پامالیوں کا خدشہ ہے
عمل کے ردعمل کے طور پر مقیم پاکستان مہاجرین کی جانب سے ایک صاحب کے نکتہ نظر کو بھی دیکھا جاسکتا ہے
آزاد کشمیر والو اگر تم پاکستانی نہیں ہو تو:—-
1. قرارداد الحاق پاکستان واپس لو۔ 2. معائدہ کراچی ختم کرو۔ 3. مختلف رولز آف بزنس کی روشنی میں دیا گیا عبوری ایکٹ/آئین 1974 پاکستان کو واپس کرو 4. منگلا ڈیم واپس کرو۔ 5. جتنے بھی پاکستان کے ادارے آزاد کشمیر میں کام کر رہے ہیں انہیں کام نہ کرنے دو۔ 6. بھارت و دیگر پڑوسی کے مقابلے میں اپنا دفاع خود کرو۔ 7. اپنی فوج کا ادارہ بناو۔ 8. اپنی خارجہ پالیسی اور کرنسی بناو ۔9. اپنا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ جاری کرو۔ 10. اپنی وزارت داخلہ بناو۔ 11. اپنی سیاسی پارٹی و نظام بناو ۔ 12. اپنی زراعت و صنعت کو فروغ دو۔ 13. اپنا آئین بناو۔ 14. اپنا چیف سیکرٹری و آئ جی لگاو۔ 15. اپنی ایچ ای سی اور پی ایم ڈی سی اور دیگر ضروری ادارے بناو۔ 16. اپنے قوانین بناو 17. اپنا دفتر خارجہ قائم کرو۔ 18. اپنا ایٹم بم بناو۔ پاکستان کی مدد کے بغیر اپنے ہائڈرو پاور کیا اپنے واشروم تو بناو وہ بھی زلزلے کے بعد ترکی اور سعودی حکومت بنا کر دے گئی۔ 19. اپنی عدا لتوں کے متضاد منافقانہ فیصلے واپس لو.20. مقبوضہ کشمیر اور جی بی کو چھوڑو وہ تمھیں گھاس ہی نہیں ڈالتے اپنی بات کرو 21. پاکستان سے نکل جاو اور جب اجازت ملے پھر او۔ اپنا بزنس ، جائیداد اور روزگار وغیرہ افغانیوں کی طرح پاکستان سے ختم کرو اور جو پاکستان میں نوکریاں کرتے ہیں چھوڑ کر چلے جاؤ اور بھی بہت کچھ ۔۔۔۔اللہ پاک ہی کرم کرے ہم سب پر ۔
ڈاکٹر اشرف ایڈووکیٹ سپریم کورٹ ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں