16

آزاد گروپ کا نیشنل پریس کلب کی آئینی مدت کے ختم ہونے کے باوجود سابقہ کابینہ کلب پر بڑا جمان ہونے پر سخت تشویش کا اظہار

نیشنل پریس کلب کے آزاد گروپ کے منتخب ارکان کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
اجلاس کی صدارت ڈاکٹرسعدیہ کمال نے کی۔
*اجلاس میں نیشنل پریس کلب کی آئینی مدت کے ختم ہونے کے باوجود نیشنل پریس کلب کی سابقہ کابینہ بشمول صدر سیکرٹری اور دیگر عہدیداران کے پریس کلب پر بڑا جمان ہونے پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا*۔ آزاد گروپ اسلام آباد کے ترجمان کے مطابق

نیشنل پریس کلب کے انتخابات 17 اگست 2020 کو ہوئے تھے، اور نیشنل پریس کلب کے آئین کے مطابق پریس کلب کی منتخب کابینہ کی آئینی مدت صرف ایک سال ہے اور اس میں کسی قسم کی توسیع نہیں کی جاسکتی ہے۔

آزاد گروپ کی طرف سے منتخب ارکان سابقہ سینئر نائب صدر ڈاکٹر سعدیہ کمال، ممبر گورننگ باڈی فیض محمد پراچہ اور ہرمیت سنگھ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ *24 سمتبر کو بلایا جانے والا نیشنل پریس کلب کی کابینہ کا اجلاس غیر آئینی ہے اور اس اجلاس کی کوئی قانونی و آئینی حیثیت نہیں ہے*۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ نیشنل پریس کلب کو قابضین سے چھڑانے کیلئے ایک بھرپور آگہی مہم چلائی جائے گی،صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کیلئے تمام حکومتی مشینری، اداروں، سیاسی جماعتوں، سفارتخانوں اور وزارت اطلاعات اور زیلی اداروں، ملک بھر کے پریس کلبز اور پروفیشنل تنظیموں کو خطوط لکھے جائیں گے اور انہیں ان غیر قانونی اقدامات بارے آگاہ کیا جائے گا۔

سابقہ باڈی کے اجلاس منعقدہ مارچ 2021 میں ڈاکٹر سعدیہ کمال اور فیض پراچہ نے کابینہ اجلاس میں اس بابت سوال اٹھایا کہ جنرل کونسل اجلاس منعقدہ مارچ 2020 کے فیصلے کے مطابق مارچ 2021 میں انتخابات ہونا قرار پائے تھے۔
تاہم اس اجلاس میں سیکرٹری انور رضا اور صدر شکیل انجم سمیت دیگر ارکان کا موقف تھا کہ جنرل کونسل کے فیصلے باوجود منتخب کابینہ کی آئینی مدت ایک سال ہے اور یہ کابینہ 17 اگست 2021 تک ہو گی۔ اس کابینہ اجلاس کا اعلامیہ اور پریس ریلیز جاری نہیں کیا گیا۔
تاہم اب 24 ستمبر جمعہ کو ہونے والے کابینہ اجلاس کیلئے انور رضا آزاد گروپ کے ارکان کو فون کر کے بلا رہے ہیں جبکہ، انہی سیکرٹری انور رضا صاحب نے 27 اگست کو کابینہ کے واٹس ایپ گروپ سے نکال دیا تھا۔ اجلاس شرکاء نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ اب کس حیثیت میں غیر قانونی غیر آئینی کابینہ کا اجلاس طلب کیا گیا ہے۔
*آزاد گروپ کے ارکان اپنے اس موقف پر واضح ہیں کہ نیشنل پریس کلب کی آئینی مدت ختم ہو چکی ہے اور 17 اگست کے بعد نیشنل پریس کلب کے، لئے گئے اقدامات کی کوئی آئینی و قانونی اور اخلاقی حیثیت نہیں ہے*۔
اجلاس نے متفقہ طور فیصلہ کیا کہ نیشنل پریس کے نئے انتخابات کیلئے تمام گروپس کے سربراہان کا اجلاس طلب کر کے آئندہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

جاری کردہ: *۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں