40

تحریک لبیک کے گرفتار امیر حافط سعد رضوی کے خلاف مقدمہ قتل درج

تحریک لبیک کے گرفتار امیر حافط سعد رضوی کے خلاف مقدمہ قتل درج‏علامہ سعد رضوی کے خلاف 7ATA کے ساتھ 302 کا مقدمہ تھانہ شاہدرہ ٹاؤن لاہور میں درج کر لیا گیا

‏کانسٹیبل محمد افضل 6523/c جو کہ تھانہ گوالمنڈی تعینات تھا شاہدرہ موڑ آپریشن کے دوران TLP کے کارکنان نے شہید کردیا ہے

کانسٹیبل محمد افضل 6523/c جو کہ تھانہ گوالمنڈی تعینات تھا شاہدرہ موڑ کلیٸر کروانے کے دوران TLP کے کارکنان نے شہید کردیا ہے یا مار دیا۔
اسے شہید کہوں یا جان بحق؟ 🤔
👈 مرنے والا عاشقان رسول کے ہاتھوں مارا گیا لیکن یقین کریں یہ بھی,مسلمان تھا, کلمہ گو تھا اسکے دل میں بھی عشق رسول اللہ صلى الله عليه واله وسلم کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا. مگر اپنی ڈیوٹی سر انجام دیتے ہوئے عاشقان رسول کے ہتھے چڑھ گیا، 😢
نا اس کے بس میں فرانسیسی سفیر کو نکالنا تھا
نا اس کے بس میں فرانس کے 18ارب دینے کا اختیار
لیکن اس سےعوام الناس کیلٸے راستہ کھلوانے کی غلطی ضرور سر زد ہوٸی ہے
👈 کوئی بتا سکتا ہے کہ اسکا رتبہ کیا ہے؟ 🤔

پولیس کے مطابق شاہدرہ ٹاؤن میں سعد رضوی اور تحریک لبیک کے دیگر رہنماؤں کے خلاف بھی مقدمہ درج کیا جبکہ مقدمے میں سعد رضوی، اعجاز  رسول اور محمد قاسم سمیت دیگر کو نامزد کیا گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے میں قتل اور اقدام قتل، دہشت گردی سمیت دیگر دفعات کے تحت درج کیا گیا۔

*سعد رضوی کی گرفتاری!*
*حقائق سامنے آ گئے*

سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کے برعکس یہ حقیقت منظر عام پر آ چکی ہے کہ تحریک لبیک کے سربراہ علامہ سعد رضوی کی گرفتاری حکومتی ایما کی بجائے پیر افضل قادری کی جانب سے جمع کروائی گئی ایف آئی آر کی بنا پر کی گئی ہے۔ ایف آئی آر کے مطابق پیر افضل قادری نے الیکشن کمیشن کے قوانین کے مطابق ایف آئی آر میں درج کیا ہے کہ علامہ سعد رضوی نے غیر قانونی طور پر قبضہ گروپ قائم کر کے تحریک لبیک کے اثاثوں پر قبضہ کر لیا ہے جبکہ مزید برآں انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ سعد رضوی خافظ قرآن نہیں بلکہ نشہ کرتے رہتے تھے۔ اس وجہ سے وہ تحریک لبیک کے سربراہ نہیں بن سکتے۔

ہمارے نمائندہ کے مطابق گزشتہ روز پیر افضل قادری نے ایف آئی آر درج کروانے کے بعد بعض اعلی سطح پر رابطے بھی کئے تھے جس کی وجہ سے گرفتار کا عمل ہوا۔ پیر افضل قادری نے مقدمات چوری اور فوجداری کی دفعات کے تحت جمع کروائے جنکا متن یہ تھا کہ سعد رضوی نے تحریک لبیک کے جتنے بھی اثاثے اپنے ذاتی مفاد کے لئے استعمال کئے’ ان پر صرف تحریک لبیک کا حق ہے اور بطور بانی تحریک لبیک وہ اسکو چوری ہی گردانتے ہیں۔ بعض ذرائع کا یہ بھی دعوی ہے کہ اس مخالفت کی وجہ لاہور میں 200 ایکڑ پر قائم مدرسہ کی ایک زمین ہے جس پر پیر افضل قادری نے اپنا مدرسہ قائم کرنا چاہا تھا لیکن سعد رضوی نے منع کردیا۔

دوسری جانب تحریک لبیک کے ذرائع نے یہ دعوے کرنے کی کوشش کی ہے کہ سعد رضوی کی گرفتاری حکومتی ایما پر عمل میں آئی تاکہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کے معاملہ کو مزید موخر کیا جائے۔ تحریک لبیک کی سینئر قیادت جان بوجھ کر پیر افضل قادری کی درج کروائی گئی ایف آئی آر کو چھپا رہی ہے تاکہ آپسی اختلافات عوام کے سامنے نا آئیں۔ البتہ پولیس ذرائع نے پیر افضل قادری کو شام تک ڈیڈلائن دے دی ہے کہ اگر آپ خود اپنی ایف آئی آر سامنے نا لائے تو شام تک یہ معاملہ پولیس کے ترجمان سامنے لے آئیں گے جس کے بعد تحریک لبیک کے مشتعل گروپوں کے خلاف دہشت گردی کی دفعات کے تحت مقدمے درج ہونگے۔

روزنامہ امت
خصوصی رپورٹ
13 اپریل 2021

کراچی، لاہور، پشاور ، اسلام آباد، راولپنڈی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں تحریک لبیک پاکستان کا احتجاج منگل کو دوسرے روز بھی جاری رہا۔احتجاج کے باعث متعدد اہم شاہراہیں بنداور ٹریفک جام رہاجس کی وجہ سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا،رش میں متعدد گاڑیاں اور ایمبولینسیں بھی پھنسی ر ہیں،کئی مقامات پر مظاہرین اور پولیس میں جھڑپیں بھی ہوئیں ، ایک پولیس کانسٹیبل جاں بحق ہوگیا،متعدد اہلکار اور ٹی ایل پی کارکنان بھی زخمی ہوئے، پولیس نے 100سے زائد مظاہرین کو گرفتار کرلیا۔کچھ شہروں میں ٹریفک جزوی بحال کر دی گئی، بیشتر میں حالات بدستور خراب ہیں۔وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں رینجرز تعینات کردی ہے۔ مشتعل افراد نے پولیس گاڑیوں کو آگ لگائی ہے اور عام شہریوں کی گاڑیوں اور موٹرسائیکلز کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔لاہور میں چونگی امرسدھو، فیروزپور روڈ، قصور روڈ، یتیم خانہ چوک، شاہدرہ، درواغہ والا، بیگم کوٹ، امامیہ کالونی، سکیم موڑ میں تاحال مظاہرین سڑکوں پر رہے ۔کراچی، حیدر آباد، پشاور سمیت دیگر شہروں میں بھی احتجاج کے باعث سڑکوں پر ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی۔ اسلام آباد اور راولپنڈی کے داخلی اور خارجی راستوں پر بھی ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا۔فیروزوالا میں مظاہرین کی طرف سے رینجرز اور پولیس پر پتھرا ئوکیا جس سے ایک پولیس کانسٹیبل جاں بحق ہوگیا۔ ہے جس کی شناخت محمد افضل کے نام سے ہوئی ۔ترجمان موٹروے نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی ہے۔ خیبرپختونخوا، بلوچستان اور آزاد کشمیر میں بھی سڑکیں بلاک کی گئی ہیں۔تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان اپنے مرکزی رہنما علامہ سعدرضوی کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔تحریک لبیک پاکستان نے فرانس کے سفیر کی ملک بدری اور فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کے معاملے پر 20اپریل کو ناموس رسالتۖ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ٹی ایل پی کے سربراہ سعد حسین رضوی نے کہا تھا کہ حکومت نے علامہ خادم حسین رضوی کے ساتھ 16نومبر 2020کو معاہدہ کیا تھا جس کے مطابق 3ماہ میں گستاخ فرانسیسی سفیر ملک بدر اور فرانس کا مکمل بائیکاٹ کرنا تھا لیکن تکمیل معاہدے کے لئے 20اپریل تک کی مزید مہلت لی گئی۔ معاہدے کی ڈیڈ لائن کا اعلان وزیراعظم پاکستان نے خود میڈیا پر کیا، اب اگر 20اپریل تک فرانس کا سفیر نہ نکلا تو ناموسِ رسالت مارچ ہو گا۔دوسری طرف حکومت تحریک لبیک کے ساتھ کیے گئے معاہدے کو قرارداد کی شکل میں اسمبلی میں پیش کرنے کی تیاری کررہی ہے۔چند روز قبل وزیراعظم عمران خان نے وفاقی وزیر مذہبی امور پیرنورالحق قادری سمیت دیگر وزرا سے ملاقات میں ہدایت کی تھی کہ فرانس کے سفیرکوملک بدر کرنے اور مصنوعات کے بائیکاٹ بارے تحریک لبیک سے طے پانے والے معاہدے کو قرارداد کی شکل میں اسمبلی کے سامنے رکھے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں