20

سپریم کورٹ کے فاضل جج نے ریمارکس دیے ہیں کہ رہائشی جگہ کو کمرشل کرکے کراچی کا حلیہ ہی بدل دیا گیا

*کراچی: سپریم کورٹ کے فاضل جج نے ریمارکس دیے ہیں کہ رہائشی جگہ کو کمرشل کرکے کراچی کا حلیہ ہی بدل دیا گیا*

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں لارجر بینچ نے کورنگی کراسنگ میں شادی ہالز گرانے کے خلاف کورنگی شادی ہالز ایسوسی ایشن کی درخواست پر سماعت کی۔

شادی ہالز ایسوسی ایشن کے وکیل انور منصور خان نے کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کے قوانین رہائشی پلاٹ کو کمرشل میں تبدیل کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ لارجر بینچ نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے انور منصور خان کو تحریری دلائل جمع کرانے کا حکم دیا۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ دنیا میں شہروں کا ماسٹر پلان ایک بار ہی بنتا ہے اور پھر ویسا ہی رہتا ہے، شہر جیسے بنتے ہیں ویسے ہی رہتے ہیں، لیکن آپ کے قوانین تو ایسے ہیں، جس جگہ کو چاہیں، کمرشل کردیں، اس طرح تو رہائشی کو کمرشل کرکے وہاں کی ہیئت ہی تبدیل کردیں گے، علاقے کا پورا انفراسٹرکچر تبدیل ہوجاتا ہے، کیا پانی، سیوریج و دیگر مسائل پیدا نہیں ہوں گے؟پورے کراچی کا حلیہ ہی بدل دیا گیا۔

چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ پورا کا پورا ڈیفنس سوسائٹی کمرشل کر دیا گیا، اس طرح تو سب کمرشل ہوجائے گا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی کو کمرشل کیا جا سکتا ہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں