55

سوشل میڈیا پر نیوز چینل پر بدنام خاتون کو اس انداز میں رپورٹ کرنے پر تنقید کا سلسلہ شروع ہو چکا۔

سوشل میڈیا پر ایک ٹیوی چینل پر ایک بین الاقوامی بدنام خاتون کو اس انداز میں رپورٹ کرنے پر انتہائی بدنام تنقید کا سلسلہ شروع ہو چکا۔
اور بدقسمتی سے اس قسم کے ٹک۔ٹاکرز کو پاکستان کے متعدد ٹیوی چینلز کے بعد فلم انڈسٹری میں مرکزی کردار دیے جانے کے خلاف سوشل میڈیا پر تنقید اپنے رکارڈ توڑتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔
عوامی حلقوں میں کسی میں یہ جرآت نہیں دیکھنے کو مل رہی جو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلام کے مطابق ماحول بنانے میں مددگار بن سکے، اور سروے کے مطابق 3 کروڑ سے زائد پاکستانی مسلمان شہریوں کو اس قسم کی بدچلن لڑکیوں کی فالونگ لسٹ میں دیکھا جا سکتا ہے۔
سوشل میڈیا بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر پاکستان اور پاکستانی عوام باعث عزت ہیں مگر اس قسم کی خواتین جب مفتی قوی کو تھپڑ ماریں، جبکہ وہ حریم شاہ پر زیادتی کرتا وڈیو میں نہ ثابت ہوا، مگر ایسی خاتون کے تھپڑ پر سرکار سمیت کسی کو مقدمہ درج ہوتے نہیں دیکھا گیا، اور ایسی بدچلن کو جب کوئی تھپڑ مارے، تو اسکے حمائتی پاکستانی عوام سمیت، ٹی وی چینلز کا کردار لمحہ فکریہ بنتا جا رہا ہے۔
*📌حکومت پاکستان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو چاہیے کہ اس قسم کی خواتین کے خلاف تحقیقاتی کمیشن بنایا جائے، تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس قسم کو خواتین کو جب دل چاہے پاکستان کے متعدد افراد کے خلاف بیان دینے کی آزادی کے پیچھے چھپے ایجنڈا کا علم پوری قوم کو ہو سکے۔ تاکہ پاکستان ٹیوی اور فلم انڈسٹری اپنا مقام دوبارہ حاصل کر سکے، کیونکہ دور حاضر میں اس قسم کے افراد ہماری بدنامی کا باعث بنتے جا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں