41

عورت مارچ میں مبینہ گستاخیوں اور شرانگیزیوں کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر شہداء فاؤنڈیشن آف پاکستان نے پٹیشن دائر کی۔پٹیشن میں عورت مارچ کے منتظمین کے خلاف کاروائی کرنے کی استدعا

عورت مارچ میں مبینہ گستاخیوں اور شرانگیزیوں کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر

شہداء فاؤنڈیشن آف پاکستان نے پٹیشن دائر کی۔پٹیشن میں عورت مارچ کے منتظمین کے خلاف کاروائی کرنے کی استدعا

پٹیشن میں عورت مارچ پر مستقل طور پرپابندی عائد کرنے اور اس کا انعقاد کرنے والی این جی اوز کو کالعدم قرار دینے کا حکم دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(اسلام آباد) شہداء فاؤنڈیشن آف پاکستان(لال مسجد) نے آٹھ مارچ کو یوم خواتین کے موقع پر عورت مارچ میں ہونے والی مقدس ہستیوں کی شان میں مبینہ گستاخیوں اور شرانگیزیوں کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی گئی پٹیشن میں عورت مارچ کا انعقاد کرنے والی این جی اوز بالخصوص اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشن کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ناصرف عورت مارچ کے منتظمین کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کا حکم دینے کی استدعا کی گئی ہے بلکہ عورت مارچ سمیت ایسی تمام تقریبات اور سرگرمیوں پر بھی مستقل طور پر پابندی عائد کرنے کی استدعا کی گئی ہے،جو تقریبات اور سرگرمیاں آئین و قانون اور قرآن و سنت کے خلاف ہیں۔مذکورہ پٹیشن کی سماعت کل(جمعہ کو)اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوگی۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب مذکورہ پٹیشن کی سماعت کریں گے۔تفصیلات کے مطابق شہداء فاؤنڈیشن آف پاکستان(لال مسجد)نے عورت مارچ میں ہونے والی مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخیوں اور شرانگیزیوں کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔ترجمان شہداء فاؤنڈیشن حافظ احتشام احمد نے آج(جمعرات کو) معروف قانون دان طارق اسد ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی گئی پٹیشن میں وفاقی وزارت داخلہ کو بذریعہ وفاقی سیکریٹری داخلہ،چیف کمشنر اسلام آباد،آئی جی پولیس اسلام آباد،وفاقی وزارت دفاع کو بذریعہ وفاقی سیکریٹری دفاع اور اسلامی نظریاتی کونسل کو بذریعہ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل فریق بناتے ہوئے استدعا کی ہے کہ عورت مارچ کا انعقاد کرنے والی این جی اوز بالخصوص اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشن کو کالعدم قرار دیتے ہوئے عورت مارچ کے منتظمین کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کرنے کا حکم دیا جائے۔پٹیشن میں عورت مارچ سمیت قرآن و سنت اور آئین پاکستان کے خلاف تمام تقریبات اور سرگرمیوں پر مستقل طور پر پابندی عائد کرنے کا حکم دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔پٹیشن میں یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ عدالت اسلامی نظریاتی کونسل کو معاملہ رہنمائی کے لئے بھیجے کہ کیا پاکستان میں کسی بھی شعبے میں خواتین کو ان کے آئینی،قانونی اور شرعی حق سے محروم رکھا گیا ہے اور کیا عورت مارچ جیسی تقریبات کیا آئین،قانون اور قرآن و سنت کے خلاف نہیں ہیں۔پٹیشن میں وفاقی وزارت دفاع کو ایسی تمام این جی اوز کے متعلق تفصیلات عدالت میں پیش کرنے کا حکم دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے،جن این جی اوز کی فنڈنگ غیر ملکی ایجنسیز کررہی ہیں۔پٹیشن میں وفاقی وزارت داخلہ کو جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے سلمان شاہد کیس میں دیئے گئے فیصلے کی روشنی میں ایسی تمام این جی اوز کے خلاف کاروائی کرنے کا حکم دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے،جو این جی اوز قابل اعتراض سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا۔قیام پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریہ ہے۔قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ ہم ایسا ملک چاہتے ہیں کہ جہاں مسلمان قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگی گزار سکیں۔مگر کچھ این جی اوز مغرب کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے مذموم مقاصد کے تحت پاکستانی معاشرے میں نفرت اور توہین کے کلچر کو فروغ دے رہی ہیں۔ایسی این جی اوز آٹھ مارچ کو عورت مارچ میں گستاخانہ اور توہین آمیز نعروں میں بھی ملوث ہیں۔آٹھ مارچ کو عورت مارچ میں گستاخانہ اور توہین آمیز نعرے لگا کر پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا گیا ہے۔عورت مارچ کے منتظمین دانستہ طور پر ناصرف مقدس ہستیوں کی شان میں مبینہ طور پر بدترین گستاخی کے مرتکب ہوئے بلکہ انہوں نے اسلامی تعلیمات اور شعائر اسلام کی بھی توہین کی۔غیر ملکی ایجنسیز مختلف این جی اوز کے ذریعے ہزاروں ڈالرز خرچ کرکے پاکستان میں عورت مارچ کے نام پر گستاخی اور شرانگیزی کروا کر پاکستان میں انتشار پھیلانے کی کوشش کررہی ہیں۔عورت مارچ ناصرف قرآن و سنت کے خلاف ہے بلکہ آئین پاکستان کے بنیادی شقوں بالخصوص آئین پاکستان کے تحت حاصل اظہار رائے کی آزادی کے بھی خلاف ہے۔حکومت پاکستان عورت مارچ میں ہونے والی گستاخیوں اور شرانگیزیوں کے خلاف کاروائی کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے۔جس کی وجہ سے ملک کے طول و عرض میں شدید اشتعال پیداء ہورہا ہے۔اس صورتحال میں عدالت عالیہ سے دادرسی کے لئے رجوع کرنے کے علاوہ کوئی اور آپشن موجود نہیں ہے۔مذکورہ پٹیشن کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کل(جمعہ کو)کریں گے۔
شہداء فاؤنڈیشن آف پاکستان نے پٹیشن دائر کی۔پٹیشن میں عورت مارچ کے منتظمین کے خلاف کاروائی کرنے کی استدعا

پٹیشن میں عورت مارچ پر مستقل طور پرپابندی عائد کرنے اور اس کا انعقاد کرنے والی این جی اوز کو کالعدم قرار دینے کا حکم دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(اسلام آباد) شہداء فاؤنڈیشن آف پاکستان(لال مسجد) نے آٹھ مارچ کو یوم خواتین کے موقع پر عورت مارچ میں ہونے والی مقدس ہستیوں کی شان میں مبینہ گستاخیوں اور شرانگیزیوں کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی گئی پٹیشن میں عورت مارچ کا انعقاد کرنے والی این جی اوز بالخصوص اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشن کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ناصرف عورت مارچ کے منتظمین کے خلاف قانونی کاروائی کرنے کا حکم دینے کی استدعا کی گئی ہے بلکہ عورت مارچ سمیت ایسی تمام تقریبات اور سرگرمیوں پر بھی مستقل طور پر پابندی عائد کرنے کی استدعا کی گئی ہے،جو تقریبات اور سرگرمیاں آئین و قانون اور قرآن و سنت کے خلاف ہیں۔مذکورہ پٹیشن کی سماعت کل(جمعہ کو)اسلام آباد ہائیکورٹ میں ہوگی۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب مذکورہ پٹیشن کی سماعت کریں گے۔تفصیلات کے مطابق شہداء فاؤنڈیشن آف پاکستان(لال مسجد)نے عورت مارچ میں ہونے والی مقدس ہستیوں کی شان میں گستاخیوں اور شرانگیزیوں کے خلاف اسلام آباد ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا۔ترجمان شہداء فاؤنڈیشن حافظ احتشام احمد نے آج(جمعرات کو) معروف قانون دان طارق اسد ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر کی گئی پٹیشن میں وفاقی وزارت داخلہ کو بذریعہ وفاقی سیکریٹری داخلہ،چیف کمشنر اسلام آباد،آئی جی پولیس اسلام آباد،وفاقی وزارت دفاع کو بذریعہ وفاقی سیکریٹری دفاع اور اسلامی نظریاتی کونسل کو بذریعہ چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل فریق بناتے ہوئے استدعا کی ہے کہ عورت مارچ کا انعقاد کرنے والی این جی اوز بالخصوص اوپن سوسائٹی فاؤنڈیشن کو کالعدم قرار دیتے ہوئے عورت مارچ کے منتظمین کے خلاف قانون کے مطابق کاروائی کرنے کا حکم دیا جائے۔پٹیشن میں عورت مارچ سمیت قرآن و سنت اور آئین پاکستان کے خلاف تمام تقریبات اور سرگرمیوں پر مستقل طور پر پابندی عائد کرنے کا حکم دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔پٹیشن میں یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ عدالت اسلامی نظریاتی کونسل کو معاملہ رہنمائی کے لئے بھیجے کہ کیا پاکستان میں کسی بھی شعبے میں خواتین کو ان کے آئینی،قانونی اور شرعی حق سے محروم رکھا گیا ہے اور کیا عورت مارچ جیسی تقریبات کیا آئین،قانون اور قرآن و سنت کے خلاف نہیں ہیں۔پٹیشن میں وفاقی وزارت دفاع کو ایسی تمام این جی اوز کے متعلق تفصیلات عدالت میں پیش کرنے کا حکم دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے،جن این جی اوز کی فنڈنگ غیر ملکی ایجنسیز کررہی ہیں۔پٹیشن میں وفاقی وزارت داخلہ کو جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے سلمان شاہد کیس میں دیئے گئے فیصلے کی روشنی میں ایسی تمام این جی اوز کے خلاف کاروائی کرنے کا حکم دینے کی بھی استدعا کی گئی ہے،جو این جی اوز قابل اعتراض سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا تھا۔قیام پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریہ ہے۔قائد اعظم محمد علی جناح نے فرمایا تھا کہ ہم ایسا ملک چاہتے ہیں کہ جہاں مسلمان قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگی گزار سکیں۔مگر کچھ این جی اوز مغرب کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہوتے ہوئے مذموم مقاصد کے تحت پاکستانی معاشرے میں نفرت اور توہین کے کلچر کو فروغ دے رہی ہیں۔ایسی این جی اوز آٹھ مارچ کو عورت مارچ میں گستاخانہ اور توہین آمیز نعروں میں بھی ملوث ہیں۔آٹھ مارچ کو عورت مارچ میں گستاخانہ اور توہین آمیز نعرے لگا کر پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کیا گیا ہے۔عورت مارچ کے منتظمین دانستہ طور پر ناصرف مقدس ہستیوں کی شان میں مبینہ طور پر بدترین گستاخی کے مرتکب ہوئے بلکہ انہوں نے اسلامی تعلیمات اور شعائر اسلام کی بھی توہین کی۔غیر ملکی ایجنسیز مختلف این جی اوز کے ذریعے ہزاروں ڈالرز خرچ کرکے پاکستان میں عورت مارچ کے نام پر گستاخی اور شرانگیزی کروا کر پاکستان میں انتشار پھیلانے کی کوشش کررہی ہیں۔عورت مارچ ناصرف قرآن و سنت کے خلاف ہے بلکہ آئین پاکستان کے بنیادی شقوں بالخصوص آئین پاکستان کے تحت حاصل اظہار رائے کی آزادی کے بھی خلاف ہے۔حکومت پاکستان عورت مارچ میں ہونے والی گستاخیوں اور شرانگیزیوں کے خلاف کاروائی کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے۔جس کی وجہ سے ملک کے طول و عرض میں شدید اشتعال پیداء ہورہا ہے۔اس صورتحال میں عدالت عالیہ سے دادرسی کے لئے رجوع کرنے کے علاوہ کوئی اور آپشن موجود نہیں ہے۔مذکورہ پٹیشن کی سماعت اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کل(جمعہ کو)کریں گے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں