گورنر راج غیر آئینی، غیر قانونی اور بدنیتی پر مبنی ہے، محمود اچکزئی کی پشاور ہائیکورٹ میں گفتگو، چیلنج کرنے والی درخواستوں پر 20 اکتوبر کو سماعت ہوگی
تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صوبے کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف اظہار یکجہتی کے لیے پشاور ہائیکورٹ آئے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود اچکزئی نے کہا کہ پی ٹی آئی سے پہلے انتخابی نشان چھینا گیا، پھر انتخابات بندوق کے زور پر کرائے گئے اور خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کی حکومت قائم ہونے کے بعد اس سے حکومت بھی چھین لی گئی۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے وسائل اور اختیارات پر بندوق کے زور پر قابض ہونے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
محمود اچکزئی کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ارکان کو 10، 15 اور 20 سال تک کی سزائیں سنائی گئی ہیں، جبکہ قاتل کی سزا بھی 20 سال ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کے طریقہ کار کی بھی مخالفت کی تھی اور اب فیصلہ کیا ہے کہ بندوق نہیں اٹھائیں گے بلکہ قانونی جدوجہد کریں گے۔
دوسری جانب خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف دائر درخواستیں پشاور ہائیکورٹ نے 20 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دی ہیں۔ بیرسٹر گوہر خان اور سلمان خان ایڈووکیٹ نے الگ الگ درخواستیں دائر کر رکھی ہیں، جن میں وفاقی حکومت، صدر مملکت، وزیراعظم، گورنر خیبرپختونخوا اور دیگر متعلقہ حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔
درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ دہشتگردی کو بنیاد بنا کر منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات ختم کرنا امتیازی سلوک ہے۔ بلوچستان میں دہشتگردی اور جانی نقصانات کے باوجود گورنر راج نافذ نہیں کیا گیا، جبکہ خیبرپختونخوا میں سیاسی اختلافات کی بنیاد پر منتخب حکومت کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
درخواستوں میں کہا گیا ہے کہ 2007 سے 2015 تک دہشتگردی کے باوجود خیبرپختونخوا میں گورنر راج نافذ نہیں کیا گیا تھا۔ پی ٹی آئی دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں اور امن کے قیام کی حمایت کرتی ہے، تاہم دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کرنے کے الزامات کو سیاسی دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
درخواست گزاروں کے مطابق پی ٹی آئی نے 2024 کے عام انتخابات میں خیبرپختونخوا میں دو تہائی اکثریت حاصل کی تھی، اس لیے منتخب حکومت کے اختیارات ختم کرنے کے لیے آئینی تقاضوں کی پابندی ضروری ہے۔ گورنر راج کے نفاذ کو آئین کے آرٹیکل 234 جبکہ ایمرجنسی کے اقدام کو آرٹیکل 232 اور متعلقہ پارلیمانی تقاضوں کی روشنی میں جانچا جانا چاہیے۔
درخواستوں میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ مذاکرات کی ناکامی اور لانگ مارچ کو جواز بنا کر آئینی و جمہوری احتجاج کو امن و امان کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے، حالانکہ منتخب حکومت کو معطل کرنے کا اقدام قابلِ سوال ہے۔
پشاور ہائیکورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کالعدم کیا جائے اور درخواستوں کے حتمی فیصلے تک گورنر راج کے اعلامیے کو معطل کیا جائے۔
عدالت نے درخواستیں 20 اکتوبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دی ہیں، جہاں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق آئینی اعتراضات کا جائزہ لیا جائے گا۔