گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا ینگ ڈاکٹرز سے اظہار یکجہتی، ڈی آئی خان میں احتجاج ختم، گورنر راج کا معاملہ بھی اٹھا دیا
پشاور: گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے خیبر ٹیچنگ ہسپتال پشاور کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے ہاؤس آفیسرز اور ٹرینی میڈیکل آفیسرز کے احتجاج میں ان سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ گورنر کی درخواست پر ینگ ڈاکٹرز نے ڈیرہ اسماعیل خان میں احتجاج ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ڈی آئی خان کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر ہڑتال ختم کر رہے ہیں اور گورنر فیصل کریم کنڈی کے مثبت کردار کو سراہتے ہیں۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبے میں ہاؤس جاب اور ٹی ایم او ڈاکٹرز احتجاج کر رہے ہیں، لیکن حکومت کو ان کی کوئی پرواہ نہیں۔ حکومت انصاف اور صحت کی بات تو کرتی ہے، مگر نہ انصاف دے سکی اور نہ ہی عوام کو صحت کی سہولیات فراہم کر سکی۔
گورنر نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ اپنے اراکین کی تنخواہیں بڑھانے اور مراعات دینے میں مصروف ہیں۔ اگر وہ اپنے بانی کے وژن پر عمل پیرا ہیں تو صوبے کے ڈاکٹروں کو بھی شوکت خانم کے ڈاکٹروں کے برابر تنخواہیں دیں۔
فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو خود پشاور آکر احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کے مسائل سننے چاہئیں۔ صوبے میں جنگی صورتحال ہے اور وہ ان ڈاکٹروں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اسلام آباد میں اپنے حقوق مانگنے جانے والے ڈاکٹروں کو ان کے جائز حقوق نہیں دیے جا رہے۔
گورنر خیبرپختونخوا نے گورنر راج کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گورنر راج مجبوری کے تحت لگایا جاتا ہے۔ خیبرپختونخوا حکومت معاملات کو اس حد تک نہ لے جائے کہ گورنر راج نافذ کرنا پڑے۔ اگر وزیراعلیٰ کہتے ہیں کہ ان کے پاس اختیار نہیں تو انہیں استعفیٰ دے دینا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اپنی کرسی بچانے کے چکروں میں لگے ہوئے ہیں، جبکہ صوبے کے اہم مسائل اور ڈاکٹرز کے مطالبات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔