میجر جنرل فیصل نصیر کی تقرری سے متعلق مبینہ گمراہ کن مواد پھیلانے کا الزام، این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کر لیا

میجر جنرل فیصل نصیر کی تقرری سے متعلق مبینہ گمراہ کن مواد پھیلانے کا الزام، این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کر لیا

اسلام آباد (سٹی رپورٹر) نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ایف آئی آر نمبر 143/2026 درج کرتے ہوئے محمد بلال غوری کے خلاف کارروائی شروع کر دی ہے۔

ایف آئی آر اور ابتدائی تفتیش کے مطابق الزام ہے کہ محمد بلال غوری نے 5 ستمبر 2026 کو ایک یوٹیوب ویڈیو اور سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کے ذریعے میجر جنرل فیصل نصیر کی بطور نیشنل کوآرڈینیٹر تقرری سے متعلق مبینہ طور پر غلط اور گمراہ کن معلومات پر مشتمل مواد تیار، اپ لوڈ اور پھیلایا۔

تحقیقات میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مذکورہ مواد کو کسی قانونی، آزادانہ طور پر قابلِ تصدیق یا سرکاری حقائق کی بنیاد کے بغیر پیش کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق مواد میں سرکاری نوٹیفکیشن کے متن کو دیگر غیر مصدقہ معلومات اور قیاس آرائیوں کے ساتھ ملا کر پیش کیا گیا۔

ایجنسی کے مطابق ویڈیو اور پوسٹ میں فوجی ترقی کے نظام، انٹیلی جنس اداروں کے مبینہ داخلی معاملات، ممکنہ ترقیوں اور ادارہ جاتی مقاصد سے متعلق غیر مصدقہ قیاس آرائیاں شامل تھیں، جبکہ بعض اصطلاحات، جن میں مبینہ طور پر “سائیڈ لائننگ” کا لفظ بھی شامل ہے، استعمال کی گئیں۔

ایف آئی آر کے مطابق تفتیشی حکام کا مؤقف ہے کہ اس نوعیت کا مواد عوامی اعتماد کو متاثر کرنے اور ریاستی اداروں سے متعلق بدامنی یا بے چینی پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔

این سی سی آئی اے کے مطابق مذکورہ معاملہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 (پیکا)، جیسا کہ 2025 میں ترمیم کیا گیا، کی دفعات 20 اور 26-A کے تحت قابلِ دست اندازی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔

ایجنسی کا کہنا ہے کہ مقدمہ درج کرنے کے بعد قانون کے مطابق ضروری قانونی کارروائی شروع کی گئی، متعلقہ اجازت حاصل کی گئی اور ملزم کو قانونی تقاضوں کے مطابق حراست میں لے لیا گیا۔

واضح رہے کہ مقدمہ درج ہونا الزامات کا ابتدائی قانونی مرحلہ ہے اور الزامات کی حتمی حیثیت کا تعین تحقیقات اور عدالت میں قانونی کارروائی کے بعد ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں