وفاقی سرکاری ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی میں مبینہ کرپشن کا بڑا انکشاف

وفاقی سرکاری ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی میں مبینہ کرپشن کا بڑا انکشاف، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا مطالبہ

ایف-14، ایف-15 کے 350 سے زائد واؤچرز زیرِ التوا ہونے کا دعویٰ، جی-15/3 کے الاٹمنٹ اور ٹرانسفر معاملات پر بھی سوالات

اسلام آباد (سٹی رپورٹر) وفاقی سرکاری ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی (FGEHA) کے لینڈ اور ڈی سی ونگ میں مبینہ کرپشن، غیر قانونی رقوم کی وصولی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں۔ اتھارٹی کے ڈپٹی ڈائریکٹر رفاقت سعید نے سیکرٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو ایک تحریری شکایت ارسال کرتے ہوئے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات اور ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

شکایت میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایف-14 اور ایف-15 منصوبوں سے متعلق 350 سے زائد واؤچرز تاحال زیرِ التوا ہیں، جس کے باعث متاثرین کو اپنی رقوم کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔

خط میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بعض متاثرین سے فی کنال پانچ لاکھ روپے تک مبینہ غیر قانونی رقم طلب کیے جانے کی شکایات موصول ہوئی ہیں۔ شکایت کنندہ کے مطابق ایسے الزامات بھی سامنے آئے ہیں کہ مبینہ طور پر رقم ادا کرنے والے افراد کے معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جاتا ہے، جبکہ رقم ادا نہ کرنے والوں کے واؤچرز میں تاخیر کی جاتی ہے۔

ذرائع کے مطابق شکایت میں جی-15/3 کے پروویژنل الاٹمنٹ لیٹرز کے اجرا کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ خط میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض متاثرین سے فی فائل پانچ لاکھ روپے تک مبینہ طور پر طلب کیے جانے کی شکایات سامنے آئی ہیں اور رقم ادا کرنے والے افراد کے معاملات نسبتاً جلد نمٹائے جانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

اسی طرح ایف-14 اور ایف-15 کے لینڈ شیئرنگ پلاٹ لیٹرز کے اجرا کے معاملے پر بھی سنگین سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ شکایت کے مطابق بعض متاثرین سے ان لیٹرز کے اجرا کے لیے دس لاکھ روپے تک مبینہ غیر قانونی رقم طلب کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ شکایت کنندہ نے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے عمل کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کر کے حقائق سامنے لائے جائیں۔

خط میں جی-15/3 کے پلاٹس کی پہلی ٹرانسفرز روکے جانے کا معاملہ بھی اٹھایا گیا ہے۔ متاثرین نے سوال کیا ہے کہ ٹرانسفرز روکنے کا فیصلہ کس قانون، پالیسی یا نوٹیفکیشن کے تحت کیا گیا اور اس فیصلے کی منظوری دینے والی مجاز اتھارٹی کون تھی۔

شکایت میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس حوالے سے مکمل ریکارڈ سامنے لایا جائے تاکہ متاثرین کو اپنی قانونی حیثیت اور حقوق کے بارے میں واضح معلومات فراہم کی جا سکیں۔

ڈپٹی ڈائریکٹر رفاقت سعید کی جانب سے بعض غیر رسمی ہینڈلرز اور مبینہ مڈل مین کے کردار پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ شکایت میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ زمین، معاوضے اور الاٹمنٹ سے متعلق معاملات میں بعض افراد کی جانب سے متاثرین سے مبینہ طور پر غیر قانونی رقوم طلب کی جاتی ہیں۔

شکایت کنندہ کا مؤقف ہے کہ اگر عائد کیے گئے الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ معاملہ انتہائی سنگین نوعیت کا ہے اور اس کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ناگزیر ہیں۔

خط میں سیکرٹری ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایف جی ای ایچ اے کے لینڈ اور ڈی سی ونگ کی اعلیٰ سطحی انکوائری کرائی جائے، ایف-14 اور ایف-15 کے تمام زیرِ التوا واؤچرز کا مکمل آڈٹ کیا جائے اور ادائیگیوں کے نظام کو شفاف بنایا جائے۔

مزید مطالبہ کیا گیا ہے کہ تمام اہل متاثرین کو ان کے جائز الاٹمنٹ اور لینڈ شیئرنگ لیٹرز جاری کیے جائیں، جبکہ جی-15/3 کی ٹرانسفرز کے معاملے کا بھی قانونی اور انتظامی بنیادوں پر جائزہ لیا جائے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی افسر، اہلکار، مڈل مین یا ہینڈلر کے خلاف کرپشن یا غیر قانونی وصولی کے شواہد سامنے آئیں تو اس کے خلاف محکمانہ اور قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

دستاویز کی نقول وزیراعظم پاکستان، وزیراعظم شکایات سیل، وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ہاؤسنگ اینڈ ورکس، ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے اور ڈائریکٹر جنرل وفاقی سرکاری ملازمین ہاؤسنگ اتھارٹی کو بھی ارسال کی گئی ہیں۔

دوسری جانب ایف جی ای ایچ اے کی جانب سے ان مخصوص الزامات پر باضابطہ مؤقف سامنے آنا باقی ہے۔ اتھارٹی کی سرکاری ویب سائٹ پر ایف-14 اور ایف-15 منصوبوں کے حوالے سے 2026 کے دوران مختلف عوامی نوٹس اور منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق اعلانات موجود ہیں۔

تاہم شکایت میں عائد کیے گئے کرپشن، رشوت اور غیر قانونی رقوم کی وصولی کے الزامات کی آزادانہ تصدیق ابھی باقی ہے۔ اب توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ متعلقہ وزارت اور ایف جی ای ایچ اے انتظامیہ ان سنگین الزامات کی تحقیقات کے لیے کیا عملی اقدامات کرتی ہے اور آیا 350 سے زائد زیرِ التوا واؤچرز، جی-15/3 کی ٹرانسفرز اور مبینہ غیر قانونی وصولیوں کے معاملے میں ذمہ دار افراد کا تعین کیا جاتا ہے یا نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں