خیبرپختونخوا اسمبلی میں ہنگامہ خیز اجلاس، بانی پی ٹی آئی کی صحت پر قرارداد منظور، حطار میں بچوں کے خون میں سیسے کی بلند سطح کا معاملہ بھی زیر بحث
پشاور: خیبرپختونخوا اسمبلی کا اجلاس اسپیکر بابر سلیم سواتی کی زیر صدارت ہوا، جس میں گزشتہ اجلاس کے ناخوشگوار واقعے، بانی پی ٹی آئی کی صحت، ہری پور سے بچی کے اغوا، حطار انڈسٹریل اسٹیٹ میں بچوں کے خون میں سیسے کی بلند سطح، این ایف سی ایوارڈ رپورٹس اور دیگر اہم معاملات پر بحث کی گئی۔
اجلاس کے آغاز پر اسپیکر بابر سلیم سواتی نے گزشتہ اجلاس کے واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس ایوان نے حکومت اور اپوزیشن دونوں اطراف سے اپنی ایک تاریخ بنائی ہے۔ گزشتہ اجلاس میں خاتون رکن صوبیہ شاہد پر ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کی جانب سے دو ہفتوں کی پابندی عائد کی گئی تھی، تاہم ڈپٹی اسپیکر نے آج اپنا فیصلہ واپس لے لیا ہے۔
اسپیکر نے کہا کہ ایوان میں ہمیشہ ایک دوسرے کا احترام کیا گیا ہے اور وہ تمام ارکان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے چیف وہپ اکبر ایوب کو ہدایت کی کہ وہ خواتین ارکان کو منانے کے لیے جائیں تاکہ گزشتہ اجلاس کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کو ختم کیا جا سکے۔ اسپیکر نے آئندہ ایسے ناخوشگوار واقعات سے بچنے کی بھی خواہش کا اظہار کیا۔
اپوزیشن لیڈر کا گزشتہ اجلاس پر احتجاج
اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد اللہ نے گزشتہ ہفتے اسمبلی میں پیش آنے والے واقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ اس ایوان کے علاوہ دیگر اسمبلیوں میں بھی اختلافات کے باوجود مکالمہ جاری رہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بطور رکن اسمبلی گزشتہ اجلاس میں جو کچھ دیکھا اور سنا، اس پر انہیں شرمندگی ہوئی۔ ان کے مطابق آج سوشل میڈیا کا دور ہے اور اسمبلی میں ہونے والی ہر چیز سوشل میڈیا پر وائرل ہو جاتی ہے۔
ڈاکٹر عباد اللہ نے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں کورم کی نشاندہی آئین کے مطابق کی گئی تھی۔ حکومت کے پاس 92 ارکان موجود ہیں اور کورم پورا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورم کی نشاندہی ایک آئینی عمل ہے اور ایسا کوئی قانون نہیں کہ فلور سے باہر موجود ارکان کے پیچھے اسمبلی اسٹاف بھیج دیا جائے۔
انہوں نے گزشتہ اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ اسپیکر کی کرسی نہ حکومت کی ہے اور نہ اپوزیشن کی۔
بانی پی ٹی آئی کی صحت پر قرارداد منظور
خیبرپختونخوا اسمبلی نے بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق قرارداد بھی منظور کرلی۔ قرارداد میں بانی پی ٹی آئی کی صحت کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں مکمل اور بہتر طبی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
قرارداد میں ذاتی معالجین کو بانی پی ٹی آئی کا باقاعدہ طبی معائنہ کرنے اور ان کی نگرانی میں علاج کی سہولت فراہم کرنے پر زور دیا گیا۔ بانی پی ٹی آئی کو اہل خانہ سے باقاعدہ ملاقات اور ویڈیو کالز کی اجازت دینے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔
قرارداد میں ان کے علاج اور صحت کی مؤثر نگرانی کے لیے فوری اقدامات اور بنیادی انسانی حقوق و عزتِ نفس کے تحفظ پر بھی زور دیا گیا۔
ہری پور میں بچی کے اغوا کا معاملہ اسمبلی میں پہنچ گیا
ہری پور میں آیت نور نامی بچی کے مبینہ اغوا کا معاملہ بھی خیبرپختونخوا اسمبلی میں زیر بحث آیا۔
معاون خصوصی ملک عدیل نے کہا کہ بچی کے اغوا کے معاملے پر پولیس تفتیش کر رہی ہے اور اس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔
مسلم لیگ ن کی رکن شازیہ جدون نے مطالبہ کیا کہ واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں اور معلوم کیا جائے کہ بچی کے اغوا میں کون ملوث ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر معصوم بچی کو بازیاب نہ کرایا گیا تو وہ اسمبلی میں دھرنا دیں گی۔
چیف وہپ اکبر ایوب نے کہا کہ یہ ایک گھناونا جرم ہے، ہری پور میں اس طرح کے واقعات نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملزمان گرفتار کیے گئے ہیں اور مزید ملزمان کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ ایک ایک گھر اور جگہ کو تلاش کیا جا رہا ہے اور پولیس نے امید دلائی ہے کہ لاپتہ بچی کو بازیاب کرلیا جائے گا۔
حطار میں بچوں کے خون میں سیسے کی بلند سطح کا معاملہ
مسلم لیگ ن کی رکن شازیہ جدون نے محکمہ صحت سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کے ایک سروے کے مطابق حطار انڈسٹریل اسٹیٹ کے علاقے میں 88 فیصد بچوں کے خون کے نمونوں میں سیسے کی بلند سطح پائی گئی ہے۔
انہوں نے اسے انتہائی تشویشناک صورتحال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر مسئلے پر قابو نہ پایا گیا تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
صوبائی وزیر صحت میاں خلیق الرحمن خٹک نے کہا کہ معاملے کو کمیٹی کے سپرد کرنے پر انہیں کوئی اعتراض نہیں۔ چیف وہپ اکبر ایوب نے بھی معاملے کو کمیٹی میں بھیجنے کی حمایت کی اور کہا کہ ہری پور اور ملحقہ علاقوں میں کینسر اور دیگر بیماریوں کے پھیلاؤ کا معاملہ بھی تشویشناک ہے۔
ایوان نے توجہ دلاؤ نوٹس کو چائلڈ کاکس کے سپرد کردیا۔
فنانشل ریسپونسبلٹی اینڈ ڈیٹ مینجمنٹ ترمیمی بل منظور
اجلاس میں خیبرپختونخوا فسکل ریسپونسبلٹی اینڈ ڈیٹ مینجمنٹ ترمیمی بل 2026 صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے ایوان میں پیش کیا، جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔
اس کے علاوہ صوبائی اسمبلی میں سالانہ این ایف سی ایوارڈ رپورٹ جنوری تا جولائی 2023 اور سال 2024 کی جنوری تا جون کی رپورٹ بھی پیش کی گئی۔ دونوں رپورٹس صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے آئین کی شق 160(3B) کے تحت ایوان میں پیش کیں۔
پولیس شہداء کو سول ایوارڈ نہ ملنے پر اعتراض
پیپلز پارٹی کے رکن احمد کنڈی نے 14 اگست کو دیے گئے سول ایوارڈز کا معاملہ بھی اسمبلی میں اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو سول ایوارڈز دیے گئے، وفاقی وزراء اور افسران کو بھی تمغے دیے گئے، لیکن ملک کے لیے قربانیاں دینے والے پولیس شہداء میں سے ایک کو بھی ایوارڈ نہیں دیا گیا۔
احمد کنڈی نے سوال اٹھایا کہ اگر ایوارڈ دینے کا یہی پیمانہ ہے تو حکومت وضاحت کرے کہ ان افسران اور سیکریٹریز نے ایسا کون سا کارنامہ انجام دیا ہے جس پر انہیں تمغے دیے گئے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت اس معاملے پر ایوان کو تسلی بخش جواب دے۔
استحقاق تحریک کمیٹی کے سپرد
پیپلز پارٹی کی رکن مہر سلطانہ نے تحریک استحقاق بھی ایوان میں پیش کی، جسے اسپیکر کی جانب سے استحقاق کمیٹی کے سپرد کردیا گیا۔
اسپیکر بابر سلیم سواتی نے بعض معاملات پر سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمیونیکیشن اور تاروں کے پیسے حکومت دیتی ہے لیکن رویہ ایسٹ انڈیا کمپنی جیسا ہے۔
پیپلز پارٹی کے رکن احمد کنڈی نے مطالبہ کیا کہ حکومت معاملے کی مکمل تفصیلات ایوان کے سامنے پیش کرے اور مشیر خزانہ کو بلا کر تفصیلات طلب کی جائیں۔ صوبائی وزیر قانون آفتاب عالم نے کہا کہ وفاقی پارلیمنٹ سے مکمل تفصیلات موصول ہونے کے بعد انہیں ایوان میں پیش کردیا جائے گا۔