بھارت کے سابق راجیہ سبھا رکن اور سابق آئی اے ایس افسر Jawhar Sircar نے وزیراعظم Narendra Modi پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں “منافقت” کی علامت قرار دے دیا۔
جواہر سرکار نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ مودی دورِ حکومت میں بیف ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا، جبکہ دوسری طرف گاؤ رکھشا کے نام پر شدت پسند ہندو گروہ مسلمانوں کو نشانہ بناتے رہے۔ ان کے مطابق بیف برآمد کرنے والے کاروباری حلقے بی جے پی کو مالی معاونت بھی دیتے ہیں، لیکن زمین پر نام نہاد “گاؤ رکشک” مسلمانوں کو ہراساں کرتے، تشدد کرتے اور بھتہ خوری میں ملوث رہتے ہیں۔
سرکار کے بیان کے بعد بھارتی سوشل میڈیا پر نئی بحث چھڑ گئی۔ ناقدین نے کہا کہ ایک طرف گائے کے نام پر مذہبی سیاست کی جاتی ہے، جبکہ دوسری طرف گوشت کی برآمدات سے معاشی فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔ بعض صارفین نے الزام لگایا کہ گاؤ رکھشا کے نام پر مسلمانوں کے خلاف خوف کا ماحول بنایا گیا، جہاں مویشی تاجروں، ڈرائیوروں اور عام شہریوں کو شک کی بنیاد پر بھی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔
دوسری جانب بی جے پی حامی حلقے کہتے ہیں کہ بھارت میں زیادہ تر “بیف ایکسپورٹ” بھینس کے گوشت (Buffalo Meat) پر مشتمل ہوتی ہے، جسے قانونی طور پر مختلف سمجھا جاتا ہے، اور تمام گاؤ رکشک گروہوں کو مجرم قرار دینا درست نہیں۔
جواہر سرکار کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھارت میں مذہبی سیاست، اقلیتوں کے حقوق اور ہجوم کے تشدد جیسے موضوعات دوبارہ عالمی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔
بھارت میں گاؤ رکشا کے نام پر پیش آنے والے کئی واقعات نے عالمی سطح پر بھی توجہ حاصل کی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بعض شدت پسند گروہوں نے مذہبی جذبات کو استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف نفرت اور خوف کی فضا پیدا کی۔
چند نمایاں الزامات اور واقعات یہ رہے:
بعض علاقوں میں مسلمانوں کو صرف مویشی لے جانے یا گوشت رکھنے کے شبہے پر ہجوم نے تشدد کا نشانہ بنایا۔
ریاست اتر پردیش، ہریانہ، راجستھان اور جھارکھنڈ سمیت مختلف علاقوں میں “Mob Lynching” کے واقعات رپورٹ ہوئے۔
کئی مسلم مویشی تاجروں نے شکایت کی کہ راستوں میں گاڑیاں روک کر انہیں ہراساں کیا جاتا اور بعض اوقات رقم طلب کی جاتی ہے۔
کچھ واقعات میں مسلمانوں کے گھروں اور دکانوں پر حملے کیے گئے اور “گاؤ ماتا” کے نام پر اشتعال انگیز نعرے لگائے گئے۔
انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق، سوشل میڈیا پر مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز مہمات نے بھی ایسے واقعات کو ہوا دی۔
سب سے زیادہ زیرِ بحث واقعات میں Mohammad Akhlaq کا قتل تھا، جنہیں 2015 میں اتر پردیش کے علاقے دادری میں بیف رکھنے کے الزام پر ہجوم نے قتل کردیا۔ اسی طرح Pehlu Khan کو راجستھان میں مویشی لے جانے کے دوران تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ Tabrez Ansari کا کیس بھی عالمی میڈیا میں نمایاں رہا۔
ناقدین کے مطابق یہ واقعات صرف قانون و امان کا مسئلہ نہیں بلکہ اقلیتوں میں خوف پیدا کرنے کا ذریعہ بھی بنے۔ دوسری جانب ہندو قوم پرست حلقے کہتے ہیں کہ گائے ہندو مذہب میں مقدس ہے اور اس کے تحفظ کے قوانین کو مذہبی احترام کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے، تاہم وہ ہجوم کے تشدد کی کھل کر حمایت نہیں کرتے۔
بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مذہب کے نام پر تشدد، نفرت انگیزی اور ہجوم کے حملوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ تمام شہری خود کو محفوظ محسوس کریں۔
بھارت کے سابق راجیہ سبھا رکن اور سابق بیوروکریٹ Jawhar Sircar نے وزیراعظم Narendra Modi اور بی جے پی حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے گاؤ رکشا سیاست کو “منافقت” قرار دیا ہے۔
جواہر سرکار نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں لکھا:
> “What a hypocrite. Beef exports have gone up during Modi’s regime and exporters donate a lot to BJP. In the meantime, so called Go-Rakshaks go around tormenting and killing — and extorting money as well.”
انہوں نے الزام لگایا کہ مودی حکومت کے دوران بیف ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا جبکہ دوسری طرف نام نہاد “گاؤ رکشک” گروہ مسلمانوں اور مویشی تاجروں کو ہراساں کرنے، تشدد کا نشانہ بنانے اور بھتہ خوری میں ملوث رہے۔
بھارت میں گاؤ رکشا کے نام پر کئی متنازع واقعات سامنے آچکے ہیں۔ مختلف ریاستوں میں مسلمانوں کو صرف گائے یا مویشی لے جانے کے شبہے پر ہجوم کے تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ Mohammad Akhlaq، Pehlu Khan اور Tabrez Ansari جیسے واقعات عالمی میڈیا میں بھی نمایاں رہے، جہاں انسانی حقوق کی تنظیموں نے مذہبی بنیادوں پر نفرت اور ہجوم کے تشدد پر تشویش ظاہر کی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ گاؤ رکشا کو بعض شدت پسند حلقوں نے مسلمانوں کے خلاف خوف اور دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا، جبکہ حکومت پر ایسے عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی نہ کرنے کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں۔ دوسری جانب بی جے پی اور ہندو قوم پرست حلقے مؤقف دیتے ہیں کہ گائے ہندو مذہب میں مقدس ہے اور اس کے تحفظ کو مذہبی و ثقافتی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
