ملک کے اردو کے بااثر اخبار روزنامہ جنگ کے دفاتر کی جگہ کے فروخت کرنے یا کرایہ پر دینے کے اشتہار سے نی بحث چھڑ گئی جنگ کے سابق رپورٹر اظہر سید اور بریگیڈیئر صولت رضا کے تبصرے

روزنامہ جنگ کی ملک بھر میں عمارتوں کی فروخت اور کرایہ پر دینے کے اشتہارات سے سوشل میڈیا پر پرنٹ میڈیا کے دن توڑنے کی نئی بحث چھڑ گئی ہے روزنامہ جنگ کے سئنیر رپورٹر اظہر سید کے ایک مضمون کمنٹ کرتے ہوئے آئی ایس پی آر کے سابق ڈائریکٹر اور کئی کتب کے مصنف ریٹائرڈ بریگیڈیئر صولت رضا کا بامعنی تجزیہ میں اخبار فروش یونین کے منفی کردار کا ذکر کیا
یہ درست ہے کہ سیٹھ کی نیت کا کسی کو علم نہیں الیکٹرونک میڈیا کی چکاچوند سب پر حاوی ہے رہی سہی کسر سوشل میڈیا کی بے باکی نے پوری کردی ہے ایسے ماحول میں بھی documented media صرف پرنٹ میڈیا ہی شمار ہوگا ۔ بدقسمتی سے اخبار فروش یونین نے اخبارات کی آزادانہ فروخت کی ہمیشہ مخالفت کی ہے بلکہ بس سٹاپ مارکیٹ اور گھوم پھر کر آواز لگا کر اخبار اور جرائد فروخت کرنے والوں کو پولیس کے ذریعے ڈرایا دھمکایا ۔ عام شخص کو آج بھی اخبار دستیاب نہیں ہے
روزنامہ جنگ کے سئنیر رپورٹر اظہر سید نے لکھا تھا

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں