عالمی یوم آزادی صحافت پیکا ایکٹ صحافیوں پر نافذ العمل ہے جس کے تحت صحافیوں کے خلاف مقدمات درج ہو رہے ہیں کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور گروپ کے صدر محمد عارف خان دیگر عہدیداروں نے موقف

کراچی ( پ ر ) عالمی یوم آزادی صحافت آج ہم ایسے موقع پر منا رہے ہیں جب

پیکا ایکٹ صحافیوں پر نافذ العمل ہے جس کے تحت صحافیوں کے خلاف مقدمات درج ہو رہے ہیں گرفتاریاں ہو رہی ہیں اور سزائیں دی جا رہی ہیں کے یہ بات کراچی یونین آف جرنلسٹس دستور گروپ کے صدر محمد عارف خان جنرل سیکرٹری محسن شبیر سومرو نائب صدر قسیم رحیم جوائنٹ سیکرٹری طارق اسلم خازن عمران پیرزادہ اور ممبر ایگزیکٹو کونسل نے اپنے بیان میں کہی

کے یو جے دستور گروپ نے مزید کہا کہ تمام میڈیا ہاؤسز میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کا بدترین معاشی قتل عام جاری ہے پہلے تو اس قتل عام کے خلاف صحافی تنظیموں کی مذمتی بیانات آ جایا کرتے تھے لیکن اب یہ قتل عام اتنا عام ہو گیا ہے کہ اس کی کوئی اہمیت باقی نہیں رہی اور اب یہ ایک معمول کی کارروائی بن گیا ہے جس پر صحافی تنظیموں نے بھی چپ سادھ لی ہے

صحافیوں کے اب تک آٹھ ویج ایوارڈ آ چکے لیکن عملدرآمد کسی پر نہیں ہوا ویج ایوارڈ کے مطابق انہیں پورے واجبات ادا نہیں کیے جاتے جس کی وجہ سے صحافی اپنے واجبات کے حصول کے لیے آئی ٹی این ای کورٹ سے رجوع کرنے پر مجبور ہیں اور پندرہ پندرہ بیس بیس پچیس پچیس سال کے لاکھوں روپے واجبات حاصل کرنے کے لیے آئی ٹی این ای کورٹ کے دھکے کھا رہے ہیں

جو صحافی اپنے واجبات کے حصول کے لیے آئی ٹی این ای کورٹ گئے ہیں وہ وہاں ذلیل و خوار ہو رہے ہیں پانچ پانچ دس دس سال سے مقدمات التواء کا شکار ہیں اور جب فیصلے آتے ہیں تو عدالت صحافیوں کے حق پر ڈنڈی مار کر مالکان کو فائدہ پہنچا دیتی ہے اس کی تازہ مثال عوام اخبار کراچی کے صحافیوں کا فیصلہ ہے جس میں کلیم کیے گئے واجبات میں عدالت نے تقریباً چالیس پچاس فی صد کٹوتی کر دی اور مالکان کو فائدہ پہنچایا جبکہ عالمی یوم آزادی صحافت منانے والی کسی صحافی تنظیم کا اس عدالت میں کوئی کردار نظر نہیں آتا صحافی ان عدالتوں میں بے یار و مددگار ہیں

صحافیوں کا ایک حق ای بی آئی بھی ہے جس کی طرف صحافی تنظیموں کی کوئی توجہ نہیں بیشتر میڈیا ہاؤسز تو ای او بی میں صحافیوں کی رجسٹریشن کرواتے ہی نہیں ادارے کا کنٹری بیوشن بچانے کے لیے صحافی اور میڈیا ورکرز کی تنخواہوں سے کنٹری بیوشن منہا کرکے ای او بی آئی میں جمع نہیں کرواتے ہیں جس کی وجہ سے صحافی اور میڈیا ورکرز 60 سال عمر کے بعد پنشن کے حق سے محروم رہ جاتے ہیں صحافی تنظیموں نے اس اہم معاملے پر کبھی غور بھی نہیں کیا

میڈیا ہاؤسز میں صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو تنخواہیں نا دینے یا بہت ہی کم تنخواہ دینے کا سلسلہ جاری ہے اس کی جگہ ” کماؤ خود بھی کھاؤ ہمیں بھی کھلاؤ ” کا کلچر تیزی سے فروغ پا رہا ہے اب میڈیا ہاؤسز ادارے کا کارڈ پکڑا کر یہ ترغیب دیتے نظر آرہے ہیں کہ ہم نے آپ کو کما کر خود کھانے اور ہمیں بھی کھلانے کا لائیسنس دے دیا ہے اور ہم آپ کے پیچھے کھڑے ہیں اب آپ زیادہ سے زیادہ اپنی صلاحیتیں دکھائیں جس سے آپ کو بھی فائدہ ہو اور ادارے کو بھی یہ انتہائی گھناؤنا کلچر میڈیا ہاؤسز میں فروغ پا رہا ہے جس کی ایک مثال گزشتہ دنوں سامنے آئی ہے جس میں ایک معروف پریس فوٹو گرافر نے اپنی تنظیم کو اس کلچر کی شکایت کی جس پر تنظیم نے مذمتی بیان جاری کیا

کے یو جے دستور گروپ نے کہا کہ اس وقت کسی بھی صحافی کو اس کے ادارے اس کی صحافی تنظیم پریس کلبوں وفاقی و صوبائی حکومتوں کی جانب سے علاج معالجے کے لیے میڈیکل الاؤنس یا کوئی طبی سہولت فراہم نہیں کی جا رہی ہے جس کی وجہ جان لیوا امراض میں مبتلاء صحافی علاج معالجہ نا ہو نے کی وجہ سے موت کا شکار ہو رہے ہیں اور آج صحافی تنظیمیں اس سنگین افسوسناک صورتحال میں عالمی یوم آزادی صحافت منا رہی ہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں