جہلم کے پہاڑی علاقے سے گینڈے کا بیس لاکھ سال پرانا جبڑا دریافت 🦏

پدھری تحصیل سوہاوہ ضلع جہلم کے پہاڑی علاقے سے گینڈے کا بیس لاکھ سال پرانا جبڑا دریافت 🦏
گزشتہ روز سیالکوٹ یونیورسٹی کے طلباء کا تتروٹ پدھری کا تعلیمی دورا جہاں انہیں ملا ہے اس کی عمر ڈاکٹر امین صاحب نے 20 لاکھ سال پہلے کی بتائی ہے اسی علاقے میں سے چند سال قبل گینڈے کا سینگ بھی چوہدری عابد حسین دھمیال نے دریافت کیا تھا عام طور پر اس کے سینگ فوسلز نہیں بنتے اس سے پہلے ڈاکٹر سرور صاحب کی کولکشن میں گینڈے کا سینگ موجود ہے یاد رہے کہ یہ انتہائی طاقتور اور خطرناک جانوروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ دنیا میں اس کی پانچ مختلف اقسام پائی جاتی ہیں۔ جن میں سے دو کا تعلق افریقا سے ہے جبکہ باقی تین اقسام جنوبی ایشیاء میں پائی جاتی ہیں۔ پانچ میں سے تین اقسام یعنی جاون، سماترا اور کالا گینڈا انتہائی خطرناک سمجھے جاتے ہیں۔ تاہم اس کے خطرناک ہونے کے باوجود اس کی نسل تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ خصوصاً بھارت میں اس کی تعداد 2،700 سے بھی کم رہ گئی ہے۔ جبکہ سفید گینڈا بھی کم یاب ہوتا جا رہا ہے اس لیے اس کو بھی اُن جانوروں میں شامل کر لیا گیا ہے کہ جن کی نسل کو خطرات لاحق ہیں۔ اس وقت پوری دنیا میں صرف 14،500 سفید گینڈے موجود ہیں۔ افریقه میں اس کے سینگ تقریباً 1100 ڈالر فی کلو میں فروخت کیے جاتے ہیں۔ جس سے اس کی نسل کو خطره درپیش ہے۔ اس لیے اس کو عالمی اداروں کی توجه کی ضرورت ہے۔
گینڈا جانوروں کے اس قبیل سے تعلق رکھتا ہے جو نہایت جسیم و تنومند ہوتے ہیں۔ نباتات خور ہونے کے باوجود اس کا کم از کم وزن ایک ٹن تو ہوتا ہی ہے جبکہ اس کی کھال، اس کی ڈھال کا کام بھی دیتی ہے اور اس کی کھال کی کم از کم موٹائی 1.5سینٹی میٹر سے 5سینٹی میٹر تک ہوتی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں