107

تمہیں یہ ہیرو نہیں لگتا؟ یہ نعمان خان ہے، اسسٹنٹ لائن مین، بجلی ہی کے جھٹکوں سے شہید ہوجانے والے اپنے باپ کی جگہ پیسکو واپڈا میں بھرتی ہوا تھا اور آج بوڑھی بیوہ ماں کا سہارا گیارہ ہزار وولٹ کی تاروں سے جھٹکے کھا کے اپنے دونوں بازووں اور ایک ٹانگ سے مکمل محروم ہو بیٹھ

تمہیں یہ ہیرو نہیں لگتا؟

یہ نعمان خان ہے، اسسٹنٹ لائن مین، بجلی ہی کے جھٹکوں سے شہید ہوجانے والے اپنے باپ کی جگہ پیسکو واپڈا میں بھرتی ہوا تھا اور آج بوڑھی بیوہ ماں کا سہارا گیارہ ہزار وولٹ کی تاروں سے جھٹکے کھا کے اپنے دونوں بازووں اور ایک ٹانگ سے مکمل محروم ہو بیٹھا۔ لیسکو سمیت کتنی ہی بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں ہزاروں نعمان خان ڈیلی ویجرز بھی ہیں کیونکہ حکمرانوں کے پاس انہیں دینے کے لئے تنخواہیں نہیں ہیں۔

وطن کی ہواوں کو اسے بھی سلام کہنا چاہیئے، کوئی ترانہ اس کے لئے بھی ہونا چاہیئے جس کی وجہ سے آپ کے گھر اندھیری راتوں میں بھی روشن ہیں اور گرمیوں کے ان دنوں میں کمرے یخ ٹھنڈے۔ یہی تو ہیں جو واپڈا کے ناقص اور بوسیدہ نظام کو فول پروف حفاظتی انتظامات کے بغیر چلا رہے ہیں اور ٹھنڈے کمروں میں بیٹھے بے حس حکمران ان کی زندگیوں کے ساتھ ساتھ محکمے کی نجکاری کر کے ان کی نوکریوں کے بھی درپے ہیں۔

مجھے لگتا ہے ہم کسی ریاست میں نہیں کسی جنگل، کسی صحرا میں رہتے ہیں، نہ کوئی صاحب دل ہے اور نہ کوئی امید ہے ۔۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں