70

مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملے کی خبریں مبالغہ آمیز ہیں  جامعہ دارالعلوم کراچی کے مولانا اعجاز احمد صمدانی نے سب کچھ بتادیا

جامعہ دارالعلوم کراچی کے ہمارے استاذ مولانا اعجاز احمد صمدانی صاحب کے بقول واقعہ کچھ اس طرح سے پیش آیا:
“فجر کی نماز کے بعد حضرت شیخ الاسلام صاحب مسجد میں تشریف رکھتے تھے اور میں بھی وہیں موجود تھا تو ایک آدمی جس کے ہاتھ میں ایک شاپنگ بیگ تھا وہ آیا اور حضرت سے سرگوشی کرنے لگا جس میں وہ حضرت سے الگ ملاقات کے لئے وقت کا مطالبہ کر رہا تھا جس کے جواب میں حضرت نے فرمایا کہ اگر آپ کو ملاقات کرنی ہے تو ظہر کے بعد تشریف لے آئیں جواباً اس شخص نے اصرار کرتے ہوئے کہا کہ میں بہت دور سے آیا ہوں تو ابھی وقت دے دیجیے جس پر حضرت نے فرمایا کہ بھئی ملاقات کے لئے آنے سے پہلے اطلاع اور وقت تو طے کیا جاتا ہے ایسے کیسے ملاقات کر لی جائے جس کے بعد وہ شخص پیچھے ہٹا تو سیکورٹی گارڈ نے اسے کے ہاتھ میں موجود کھلے چاقو کو بند ہوتے ہوئے دیکھ لیا اور اسے گرفتار کر لیا گیا، حضرت فوراً گھر تشریف لے گئے جبکہ اس مشتبہ شخص کو دارالعلوم سے باہر چھوڑ آنے کا فرمایا لیکن سیکورٹی نے فوراً پولیس کے حوالے کر دیا جہاں تفتیش جاری ہے کہ اس شخص کا آخر کیا مقصد تھا کہ وہ چاقو کھول کر شیخ الاسلام صاحب سے علیحدگی میں ملنے پر اصرار کرتا رہا، باقی باقاعدہ کوئی حملہ نہیں کیا گیا جس طرح سوشل میڈیا پر تاثر دیا جا رہا ہے…!”
لہذا ایسی افواہوں پر کان دھرنے سے گریز کریں اور اپنے بزرگان کی صحت و سلامتی کی دعا کرتے رہیں، اللہ ان کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر بعافیت سلامت رکھے…آمین ثم آمین!
#صدائے_آفتاب
#ٹیم_صدائے_آفتاب
#آفتاب_نذیر_آفیشل

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں