83

وائس چانسلرآزادکشمیریونیورسٹی مظفرآبادکی کرپشن حکومت کی جانب سےمیرٹ کی سنگین پامالیوں کے خلاف وائس چانسلرکاعلامتی جنازہ شدید نعرہ بازی پریس کلب کےباہر احتجاجی مظاہرہ

مظفرآباد()اپر اڈا مظفرآباد سے کشمیر جسٹس مومنٹ کے زیر اہتمام ڈاکٹر کلیم عباسی وائس چانسلر آزاد کشمیر یونیورسٹی مظفرآباد کی کرپشن ، حکومت آزاد کشمیر کی جانب سے میرٹ کی سنگین پامالیوں کے خلاف وائس چانسلر آزاد کشمیر یونیورسٹی کا علامتی جنازہ نکالا گیا شرکاء احتجاج نے حکومت مخالف، وائس چانسلر آزاد کشمیر مظفرآباد کے خلاف شدید نعرہ بازی کرتے ہوئے سینٹرل پریس کلب بینک روڈ کے باہر احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا۔ اس موقع پر مقررین باسط قریشی آزاد امیدوار اسمبلی حلقہ تین سٹی مظفرآباد، ڈاکٹر لطف الرحمن سنیر رہنما پی ٹی ،آئی خالد محمود زیدی مرکزی جنرل سیکرٹری جماعت اسلامی یوتھ آزاد کشمیر اور زائد القمر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دو ہفتے سے زائد عرصہ گزر چکا اپر اڈا کے مقام پر کرپشن فری کمیپ لگا ہوا ہیں ہمارے کسی حکمران میں اتنی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ ہمارے پاس آکر ہمارا موقف سن سکے ۔موجودہ دور حکومت میں میرٹ کی سنگین پامالیاں کی گی ڈاکٹر کلیم عباسی کو دوسری مرتبہ ایکٹینشن دے کر صدر ریاست اور وزیراعظم آزاد کشمیر نے میرٹ کا قتل کیا ہے_ کیا پورے آزاد کشمیر میں اس سے قابل اور کوئی شحص نہیں جس کو وائس چانسلر لگایا جائے اپنے چہتوں کو نوازنے کے لیے وائس کو ایکٹینشن دی گی جس کے خلاف ہم سراپہ احتجاج ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ میرٹ کی پامالیوں کا سلسلہ روکنا چاہیے آج پوری ریاست میں میرٹ کا قتل عام ہو رہا ہے پڑھے لکھے قابل نوجوان اپنی ڈگریاں اٹھائے ردپدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہے ہم چیف جسٹس آزد کشمیر و سیکرٹری آزاد کشمیر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ انصاف کے تقاضے پورے کیے جائے اور کرپٹ افراد کا احتساب کیا اور ان کو قانون کے کھٹہرے میں لایا جائے جب تک وائس چانسلر آزاد کشمیر مظفرآباد کو اپنے عہدے سے ہٹا کر ان کا احتساب نہیں کیا جاتا ہمارا احتجاجی کرپشن فری کیمپ جاری رہے گا مابعد شرکائے احتجاج نے وائس چانسلر آزاد کشمیر یونیورسٹی کا علامتی جنازہ کا پتلہ اٹھا کر نیلم پل سے دریا بورد کرتے ہوئے وائس چانسلر کے خلاف نعرہ بازی کی _

مظفرآباد ( ) محکمہ تعلیم میں ظالمانہ خلاف میرٹ پالیسیز، ریٹائرڈ و حاضر سروس اساتذہ سے ہتک آمیز سلوک غیر قانونی میرٹ سے سے ہٹ کر تعیناتیوں کے خلاف سول ساءٹی کا چھتر چوک میں احتجاجی مظاہرہ اور اسمبلی سیکرٹریٹ تک ریلی، ریلی کے شرکاء نے کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر محکمہ تعلیم کے ذمہ داران کے خلاف نعرے درج تھے ، اعلی عدلیہ اور چیف سیکرٹری سے محکمہ تعلیم میں ہونے والی نا انصافیوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ،

آزاد کشمیر میں جوں جوں الیکشن قریب آتے جا رہے ہیں بیوروکریسی میں بیٹھی کالی بھیڑیں اپنے سیاسی آقاوں کو خوش کرنے کے لیے پابندی کے باوجود بھی سیاسی تقرریاں کر رہے ہیں ، سیکرٹریٹ تعلیم کو سائلین کے داخلے پر پابندی لگا کر جیل میں تبدیل کیا ہوا ہے، گزشتہ کچھ عر صہ سے سیکرٹری تعلیم کی جانب سے خلاف قواعد من پسند افراد کی تعیناتیاں کی جارہی ہیں جبکہ بہت ساری آسامیوں پر اشتہار جاری ہونے کے باوجود بھی امیدواران کو انٹرویو کے لیے نہیں بلایا گیا جبکہ ان سے بھاری رقم فیس کی مد میں وصول کی گئی ہے اور ان آسامیوں پر عارضی تقرریاں کر دی گئی ہیں ،اور ایڈہاک ملازمین کو مستقل کرنے کا ایکٹ آنے کے باوجود بھی بہت سارے من پسند افراد کی سابقہ تاریخوں میں تعیناتیاں کی گئی ہیں ، اس کے علاوہ سیکرٹری تعلیم کی جانب سے چمک کے حصول کے لیے شہریوں کے جائز کاموں میں بھی رکاوٹ ڈالی جاتی ہے اور انکو بے جا تاخیر میں رکھا جا تا ہے ۔ دارلحکومت مظفرآباد سمیت آزاد کشمیر بھر بالخصوص محکمہ تعلیم کے اندر سیاسی تقرریوں کا سلسلہ جاری ہے ، امیدوار اسمبلی اپنے چہیتوں کو نوازنے کے لیے میرٹ سے ہٹ کر بیوروکریسی سے تقرریاں کروا رہے ہیں ، خلاف میرٹ تقرریوں پر سول ساءٹی کی جانب سے چھتر چوک میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور اسمبلی گیٹ تک ریلی نکالی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے امیدوار اسمبلی نذیر شاہ ،عبدالصمد ایڈوکیٹ، یاسر نقوی ، سیدعثمان علی ، فیاض الحسن مغل ایڈوکیٹ، اجلال حیدر اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے اعلی عدلیہ اور چیف سیکرٹری سے سیکرٹری تعلیم کی جانب سے محکمہ میں کی گئی غیر قانونی تقرریوں کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ، مظاہرین کاکہنا تھا کہ حکومت نے محکمہ تعلیم میں جو این ٹی ایس کا نظام متعارف کروایا تھا ،اب الیکشن کے قریب آتے ہی اپنے کارکنوں کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے این ٹی ایس اور پبلک سروس کمیشن کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے تعیناتیوں کا سلسلہ شروع جاری رکھا ہواہے ۔ اگر تعیناتیوں کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو ہم احتجاج کادائرہ کا ر پورے آزاد کشمیر تک بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا،
۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں