110

گورنر بلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی نے سردار صالح بھوتانی کا استعفیٰ منظور کر لیا.مجھ سے اور میرے بھائی اسلم بھوتانی سے انتخابات میں جام کمال نے شکست کھائی تھی شاہد اسی کی انتقامی کارروائی کررہے ہے۔سردار صالح بھوتانی

سردار محمد صالح بھوتانی نے بلوچستان کی صوبائی کابینہ سے بحثیت صوبائی وزیر اپنا استعفیٰ گورنر بلوچستان کو پیش کر دیا. گورنر بلوچستان امان اللہ خان یاسین زئی نے سردار صالح بھوتانی کا استعفیٰ منظور کر لیا.
بی اے پی کے رہنماء سردار صالح بھوتانی کی پریس کانفرنس جام حکومت کا میں حصہ تھا: قدوس دور میں جو بجٹ بنایا تھا جام کمال نے آتے ہیں اس بجٹ کو روک دیا۔جام حکومت کے دور میں کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوا۔: ہمیں تجربہ نہیں تھا صرف ہم نے کاغذ پر لکھا اور کاغز پھاڑ دیا یہ ہی کام کرتے رہیں، جام حکومت کے دور میں صرف ایک دو اسکیم شروع ہوئیں اور وہ بھی ختم ہوئیں، میرے حلقے کو کوئ خاطر خواہ بجٹ فنڈز نہیں ملا
مجھے اور میرے کچھ دوستوں کو نظرانداز کیا گیا،آنے والا بجٹ بھی کاغزات تک ہی محدود رہے گا،سردار صالح بھوتانی نے کہا کہ ڈیپارٹمنٹ کے ردبدل کیا گیا جسکی وجہ سے کوئی ترقیاتی کام نہیں ہوئے بلوچستان حکومت میں صرف ترقیاتی کام کے حوالے سے صرف سوچا جارہا ہے عملی کام نہیں ہورہا ہے پچھلے حکومتوں کے جاری کچھ ترقیاتی کام مکمل۔ہوئے ہیں مگر جام حکومت میں کوئی کام نہیں ہوا ہے،سردار صالح بھوتانی نے کہا کہ
لوگوں کو پینے کا پانی نہیں ہے مگر فٹسال اور کھیل کے میدان بنائے جارہے ہیں ،موجودہ حکومت میں ترقیاتی کام نہ ہونے کہ وجہ لوگوں میں بے چینی پائی جاتی ہے: تین سال میں خالی آسامیوں کیلئے صرف تاریخ ہی دیئے گئے
میرے ہر چیز بند کردی گئی ہیں تو میں کارکردگی کیسے بہتر کرسکتا ہوں: میں نے آج اپنے عہدے سے استعفیٰ دے رہاہوں: میں نے اپنا استعفیٰ گورنر کو بھیج دیا ہے
اب تک موجودہ حکومت کا حصہ رہنے کیلئے بلوچستان کے لوگوں سے معافی چاہتا ہوں نیب نے بھی تحقیات کی ہے مگر میرے بارے میں کرپشن ثابت نہیں ہوا ہے: میں موجودہ حکومت کے گناہ میں اور زیادہ شریک نہیں ہوسکتا ہوں: کچھ لوگ پہلی بار ایم پی اے بنے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں سب کچھ آتا ہے مجھ سے اور میرے بھائی اسلم بھوتانی سے انتخابات میں جام کمال نے شکست کھائی تھی شاہد اسی کی انتقامی کارروائی کررہے ہے۔سردار صالح بھوتانی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں